ہوناور، 12 / جون (ایس او نیوز) ہوناور کاسرکوڈ کے ٹونکا میں تعمیر ہونے والی نجی تجارتی بندرگاہ کی مخالفت کرنے والوں کی طرف سے داخل کی گئی دو اپیلوں کو گرین نیشنل گرین ٹریبیونل نے خارج کر دیا ہے ۔
جسٹس پشپا ستیہ نارائینا اور ایکسپرٹ ممبر ستیہ گوپال کورلاپاٹی پر مشتمل نیشنل گرین ٹریبیونل ساوتھ ژون کی بینچ نے جناردھن پی میستا اور کراولی مینوگارا کارمک سنگھ کی طرف سے داخل کی گئی اپیلوں کا جائزہ لیا ۔ اپیل کنندگان نے نجی تجارتی بندرگاہ کی تعمیر پر سوال اٹھاتے ہوئے جو بڑے اعتراضات کیے تھے ان میں ریاستی محکمہ ماحولیات کی جانب سے ہوناور پورٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ کو عوامی طور پر جانچ کے بغیر کلیئرنس سرٹفکیٹ دینے کا معاملہ تھا اور اس ساحلی کنارے پر آلیو ریڈلی کچھووں کے گھروندے موجود ہونے اور بندرگاہ تعمیر ہونے پر وہاں انڈے دینے کے لئے ان کچھووں کی آمد میں رکاوٹ پیدا ہونے کو ایک بہت اہم اور حساس مسئلہ بتایا گیا ۔
نیشنل گرین ٹریبیونل نے ان تمام اعتراضات کو مسترد کر دیا اور بالخصوص کچھووں کے ٹھکانوں کو نقصان پہنچنے کی بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل سینٹر فار سسٹینیبل کوسٹل منیجمنٹ کی طرف سے کیے گئے اس علاقے میں بندرگاہ کے لئے مختص کیے گئے 45 ہیکٹر علاقے میں کسی بھی مقام پر کچھووں یا ان کے گھروندے موجودگی یا مردہ کچھووں کے باقیات جیسی کوئی چیز دیکھنے کو نہیں ملی تھی ۔
ٹریبیونل کی بینچ نے بندرگاہ مخالفین کی اپیلوں کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ کوسٹل ریگولیشن ژون کے نقشے کے مطابق مجوزہ بندرگاہ کے علاقے میں کچھووں کے گھروندے، ریت کے ٹیلے یا مینگرو کی جھاڑیاں جیسی کوئی بھی چیز موجود نہیں ہے ۔