نئی دہلی، 7/ جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) دسمبر کے مہینے میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ آلو، پیاز، اور ٹماٹر جیسی بنیادی سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ آلو کی قیمت میں 48 فیصد جبکہ پیاز کی قیمت میں 10 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ٹماٹر کی قیمتوں نے بھی 30 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ عوام کے بجٹ پر دباؤ بڑھا دیا۔ نان ویج تھالی کی بات کریں تو برائیلر مرغی کی قیمتوں میں 22 فیصد کا اضافہ ہوا، جس سے عام آدمی کے لیے غذائی اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں۔
اگر بات ماہ در ماہ کی کریں تو ویج تھالی کی قیمتوں میں نومبر کے مقابلے میں 3 فیصد کی گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے۔ دوسری طرف نان ویج تھالی کی قیمتوں میں 3 فیصد کا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ کریسل لمیٹڈ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سبزیوں کی قیمتوں میں تیزی کے سبب گھر میں بنی سبزی والی تھالی کی قیمت دسمبر میں سالانہ بنیاد پر 6 فیصد بڑھ کر 31.60 روپے ہو گئی ہے، جو ایک سال قبل 29.70 روپے تھی۔
آلو اور ٹماٹر جیسے اہم خوردنی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ (جو ویج تھالی کی لاگت کا 24 فیصد ہے) نے تھالی کی مجموعی قیمت کو بڑھا دیا ہے۔ اس درمیان نان ویج تھالی کی قیمت میں سال در سال 12 فیصد کا اضافہ دیکھنے کو ملا اور یہ بڑھ کر 63.30 روپے ہو گئی، جو ایک سال قبل 56.40 روپے تھی۔
ہائی امپورٹ ڈیوٹی اور تہواری و شادی کے موسم کے دوران بڑھی موسمی طلب کے سبب تیل کی قیمتیں بھی سال در سال 16 فیصد بڑھی ہیں۔ نان ویج تھالی کی لاگت میں اضافہ برائیلر چکن کی قیمت میں سال در سال ممکنہ 20 فیصد اضاہف کے سبب ہوا ہے جو مجموعی لاگت کا 50 فیصد ہے۔ کریسل نے کہا کہ برائیلر کی قیمتوں میں تیز اضافہ گزشتہ سال کے لووَر بیس کے سبب ہے، جب پروڈکشن زیادہ تھا۔