بھٹکل، 16 جون (ایس او نیوز) بھٹکل سمیت ساحلی کرناٹک کے مختلف علاقوں — بیندور، کنداپور، گنگولی، اُڈپی اور مینگلور سے لے کر چکمنگلور تک — گزشتہ کئی دنوں سے وقفے وقفے سے طوفانی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔
مینگلور کے مضافاتی علاقوں میں پہاڑی تودے سڑک پر گرنے سے ہائی وے پر ٹریفک نظام متاثر ہوا، جبکہ اُڈپی اور بھٹکل میں موسلادھار بارش کے سبب کئی گھروں کے کمپاؤنڈ اور بعض مقامات پر مکانوں کے اندر تک پانی داخل ہوگیا ہے۔
چکمنگلور، دکشن کنڑا اور اُڈپی اضلاع میں شدید بارش کے پیش نظر اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم بھٹکل میں سرکاری تعطیل نہیں دی گئی، جس کے نتیجے میں اسکول اور کالج کھلے رہے، اگرچہ خراب موسم کے باعث بیشتر تعلیمی اداروں میں طلبہ کی حاضری انتہائی کم دیکھی گئی۔
اتوار کی شب سے پیر کی شام تک طوفانی ہواؤں کے ساتھ جاری بارش نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ خاص طور پر پیر کی صبح اسکولی اوقات کے دوران موسلا دھار بارش اور شدید ہواؤں کے سبب اکثر والدین نے بچوں کو گھروں سے باہر بھیجنے میں ہچکچاہٹ محسوس کی۔

بارش کے نتیجے میں بھٹکل کے ڈارنٹا علاقے سے گزرنے والی سرابی ندی میں زبردست طغیانی آگئی ہے، اور پانی خطرے کے نشان کے قریب پہنچ چکا ہے۔ جبکہ مشما اسٹریٹ میں سرابی ندی کا پانی اپنی سطح سے اوپر بہنے لگا ہے، جس کے سبب غوثیہ اسٹریٹ کی طرف جانے والا راستہ خطرناک بن چکا ہے۔ فاروقی اسٹریٹ سے منڈلی جانے والی سڑک پر بھی چوتنی ندی کا پانی سڑک پر بہہ رہا ہے، جس کے باعث عوام کو آمدورفت میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔ بھٹکل میں شدید بارش کے باعث سلمان آباد، مسقط کالونی، کوگتی، بندر روڈ وغیرہ علاقوں کے کئی مکانوں کے اندر پانی داخل ہونے سے لوگوں کو سخت پریشانیاں جھیلنی پڑی، جبکہ متعدد علاقوں میں کھیتوں اور باغات میں پانی جمع ہوجانے سے علاقے ندیوں میں تبدیل ہوگئے۔
ادھر اُڈپی ضلع میں بارش کی شدت نے کئی نشیبی علاقوں کو زیرآب کر دیا ہے، جبکہ بیندور، کنداپور اور کارکالا تعلقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں ندیاں محفوظ نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں، جس سے سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے، جس کے پیش نظر عوام سے احتیاط برتنے کی اپیل کی گئی ہے۔
