سیول، 22/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)جنوبی کوریا کی ایک ضلعی عدالت نے پیر کے روز سابق وزیرِ انصاف پارک سنگ جے کو بغاوت کے جرم میں 25 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے انہیں سابق صدر یون سک یول کی جانب سے مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش میں اہم کردار ادا کرنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے فوری طور پر حراست میں لینے کا حکم بھی دیا۔
رپورٹ کے مطابق اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے پارک سنگ جے کے لیے 20 سال قید کی سزا کی سفارش کی تھی، تاہم سیول سینٹرل ضلعی عدالت نے سزا میں مزید 5 سال کا اضافہ کرتے ہوئے انہیں 25 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر انہیں آزاد چھوڑ دیا گیا تو وہ شواہد کو ضائع یا متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں فوراً تحویل میں لے لیا گیا۔
خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے مطابق پارک سنگ جے نے 3 دسمبر 2024 کو یون سک یول کی جانب سے مارشل لا کے اعلان کے بعد وزارت کے سینئر حکام کا اجلاس طلب کیا تھا اور بغاوت سے متعلق سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔
عدالت نے دونوں الزامات کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارک سنگ جے نے مارشل لا کے نفاذ کی حمایت کے لیے استغاثہ کے اہلکاروں کی تعیناتی کے جائزے، اصلاحی مراکز کی گنجائش کی جانچ اور ان سیاست دانوں اور اہم شخصیات کی ممکنہ حراست کی تیاری جیسے معاملات پر غور کیا تھا، جنہیں مارشل لا کے نفاذ کے دوران گرفتار کیا جانا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے آئین کے تحفظ کے اپنے فرض سے روگردانی کی اور اس سوچ کے تحت بغاوت میں شریک ہوئے کہ یہ اقدام کامیاب ہو سکتا ہے۔
پارک سنگ جے اب یون سک یول کی کابینہ کے ان سابق ارکان میں شامل ہو گئے ہیں جنہیں بغاوت میں کردار ادا کرنے کے الزام میں سزا سنائی جا چکی ہے۔ ان میں سابق وزیرِ اعظم ہان ڈک سو اور سابق وزیرِ دفاع کم یونگ ہیون بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل فروری میں سابق صدر یون سک یول کو بھی مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش کے معاملے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے خلاف انہوں نے اپیل دائر کر رکھی ہے۔