بھٹکل، 2 مئی (ایس او نیوز): کرناٹک کے ساحلی علاقوں میں یکم جون سے 31 جولائی تک ماہی گیری پر دو ماہ کی سالانہ پابندی نافذ کر دی گئی ہے۔ یہ پابندی سمندری وسائل کے تحفظ اور مانسون کے دوران مچھلیوں کی افزائشی نسل کو یقینی بنانے کے مقصد سے عائد کی گئی ہے۔
پابندی کے تحت ٹرال بوٹس اور پر سین جہازوں کے ذریعے ماہی گیری پر مکمل روک لگا دی گئی ہے، البتہ روایتی، غیر مشینی کشتیوں کو سمندر میں جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت ریاست کے مختلف ساحلی اضلاع بشمول کاروار، انکولہ، کمٹہ، ہوناور اور بھٹکل سے روزانہ سمندر میں جانے والی دو ہزار سے زائد ماہی گیر کشتیاں فی الحال بندرگاہوں پر لنگر انداز کر دی گئی ہیں۔ کاروار میں بیتکول بندرگاہ پر ملاحوں نے سرکاری احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی کشتیاں روک دی ہیں۔
ماہی گیری برادری کے مطابق یہ صنعت تقریباً 10,000 افراد کے روزگار سے جڑی ہوئی ہے، جن میں کشتی مالکان، ماہی گیر عملہ، دکاندار اور دیگر متعلقہ کارکن شامل ہیں۔ پابندی کے باعث روزگار متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر کشتی مالکان اور ماہی گیری برادری کے لیڈران نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مدت کے دوران متاثرہ خاندانوں کی مالی مدد کے لیے فوری امدادی پیکیج کا اعلان کرے۔
دریں اثنا، محکمہ ماہی گیری نے وارننگ جاری کی ہے کہ اگر کوئی مشینی کشتی لے کر اس پابندی کے دوران سمندر میں گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ کے ایک افسر کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانے اور دیگر کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ہر سال مانسون سے قبل یہ پابندی نافذ کی جاتی ہے تاکہ مچھلیوں کو افزائش نسل کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے، جو مستقبل میں ماہی گیری کی پائیداری کے لیے نہایت ضروری ہے۔