لدھیانہ، 30/دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)کئی کسان تنظیموں نے 30 دسمبر، پیر کو پنجاب بند کا اعلان کیا ہے۔ یہ بند کسان رہنما جگجیت سنگھ ڈلیوال کی حمایت میں کیا گیا ہے، جو پچھلے 34 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ اس بند کا اثر روزمرہ کی زندگی پر نمایاں طور پر پڑنے والا ہے۔ بند کے دوران 108 ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں، اور بسوں کی نقل و حرکت بھی رکے گی۔ دودھ، سبزیوں کی فراہمی، تمام بازار، گیس ایجنسیاں، پیٹرول پمپس اور پرائیویٹ گاڑیاں بھی بند رہیں گی۔ اس بند کی حمایت کسان تنظیموں کے علاوہ کئی مذہبی، ثقافتی اور سماجی اداروں نے بھی کی ہے۔
بسیں اور دیگر گاڑیاں نہیں چلنے سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کسانوں کے پنجاب بند کی اپیل کی وجہ سے دودھ کی سپلائی صبح 7 بجے سے پہلے دکانوں پر پہنچی۔ دودھ فروخت کنندگان نے بھی صبح 7 بجے سے پہلے دودھ کی سپلائی دینے کو لے کر پہلے ہی گزارش کی تھی۔ کسان مزدور مورچہ اور سنیوکت کسان مورچہ کی اپیل پر یہ بند صبح 7 بجے سے شام 4 بجے تک رہے گا۔ واضح ہو کہ کسان رہنما ڈلیوال سبھی فصلوں پر ایم ایس پی یعنی کم سے کم حمایتی قیمت سمیت 13 زرعی مطالبات کو لے کر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں لیکن حکومت کے ذریعہ اس پر توجہ نہیں دینے سے کسانوں میں شدید ناراضگی ہے۔
وہیں جگجیت سنگھ ڈلیوال نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کثیر تعداد میں پولیس فورس کے پہنچنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے حامیوں سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں پہنچنے کو کہا ہے۔ سنیوکت کسان مورچہ (غیر سیاسی) سے جڑے کسان رہنما سرون سنگھ پنڈھیر نے کہا ہے کہ پیر کی صبح 7 بجے سے شام 4 بجے تک بند کے دوران ریاست میں بسیں و ٹرینیں نہیں چلنے دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جانکاری ملی ہے کہ کھنوری بارڈر پر فورس لے جانے کے لیے پٹیالہ میں بسیں جمع کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھگونت مان حکومت لاشوں کے اوپر سے نکلے بغیر ڈلیوال کو نہیں لے جاسکتی۔
حالانکہ پنڈھیر نے یہ واضح کیا کہ بند کے دوران ہنگامی خدمات جاری رہیں گی۔ اس کے علاوہ پرواز کے لیے ہوائی اڈہ جانے والے یا نوکری کے لیے انٹرویو دینے والے یا شادی کی تقریب میں شامل ہونے والے سبھی لوگوں کو بند سے باہر رکھا گیا ہے۔