ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ’پہلے کسانوں کے مسائل حل کریں، صحت کی فکر بعد میں‘، کسان لیڈر ڈلیوال کی اعلیٰ کمیٹی کو صاف پیغام

’پہلے کسانوں کے مسائل حل کریں، صحت کی فکر بعد میں‘، کسان لیڈر ڈلیوال کی اعلیٰ کمیٹی کو صاف پیغام

Tue, 07 Jan 2025 11:34:17    S.O. News Service

چندی گڑھ، 7/ جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی)کھنوری بارڈر پر تامرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے کسان لیڈر جگجیت سنگھ ڈلیوال نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ کسانوں کے مسائل ان کی صحت سے زیادہ اہم ہیں۔ یہ بیان سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی ’اعلیٰ اختیار یافتہ کمیٹی‘ (ہائی پاورڈ کمیٹی) سے ملاقات کے بعد دیا گیا۔ کمیٹی کے چیئرمین، سابق جسٹس نواب سنگھ نے ملاقات کے دوران ڈلیوال کو طبی سہولیات لینے کی تجویز دی، لیکن کسان لیڈر نے اسے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ وہ کسانوں کے مسائل کے حل کو اپنی صحت پر فوقیت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک کسانوں کے مسائل حل نہیں ہوتے، وہ طبی امداد قبول نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں : ڈلیوال کی تامرگ بھوک ہڑتال جاری، سپریم کورٹ کی اعلیٰ اختیار یافتہ کمیٹی سے کسانوں کے نمائندہ وفد کی ہوگی ملاقات
کسان لیڈر ڈلیوال سے ملاقات کے بعد کمیٹی کے چیئرمین سابق جسٹس نواب سنگھ نے کہا کہ ’’ہم نے ڈلیوال سے طبی سہولیات لینے کے لیے گزراش کی ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ جلد ٹھیک ہوں۔ وہ جب بھی چاہیں گے ہم حاضر ہو جائیں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’مرکز سے براہ راست بات چیت کرانے کا ہمارے پاس اختیار نہیں ہے۔ ہم گزشتہ 4 ماہ سے کسانوں سے بات چیت کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ہم نے شروعاتی مسائل عدالت کے سامنے پیش کیے تھے۔ اب تک رپورٹ فائل نہیں کی ہے۔ ہم جلد ہی رپورٹ پیش کریں گے۔ رپورٹ الگ الگ مراحل میں ہوں گی۔ اس مسئلہ پر ایک نئی میٹنگ ہوگی۔ کمیٹی مثبت ماحول پیدا کر ایک پُل کی طرح کام کرے گی۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ کمیٹی کے چیئرمین نے واضح کر دیا ہے کہ سپریم کورٹ کسان لیڈر ڈلیوال کو بھوک ہڑتال ختم کرنے کو نہیں کہہ رہی ہے۔ عدالت ڈلیوال کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صرف یہ چاہ رہی ہے کہ ڈلیوال کی صحت مزید خراب نہ ہو اس لیے وہ طبی سہولیات لے لیں۔ کھنوری بارڈر سے کمیٹی کے اراکین جب چلے گئے تو کسان لیڈر سُرجیت سنگھ پھول اور ابھیمنیو کوہاڑ نے پریس کانفرنس منعقد کر کہا کہ ’’کمیٹی کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ وہ جو رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل کریں گے وہ ’ٹائم باؤنڈ‘ ہوگی یا نہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح نہیں کیا گیا ہے کہ کیا کمیٹی مرکزی حکومت سے بات چیت کا راستہ صاف کرنے میں مدد کرے گی؟ ایسے میں کمیٹی کی جانب سے انہیں کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے۔‘‘
 


Share: