بھٹکل، 3 نومبر (ایس او نیوز): بھٹکل کے قدوائی کراس پر نیشنل ہائی وے عبور کرتے ہوئے تیز رفتار لاری کی ٹکر سے اسکوٹر سوار کی موت کے بعد علاقے میں انڈر پاس کی تعمیر کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ عوامی مطالبے اور مسلسل شکایات کے پیش نظر منگل کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کے پروجکٹ ڈائریکٹر شیوکمار نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور ہائی وے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے مقامی لوگوں کی شکایات اور مطالبات سنے۔
اس موقع پر قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح وتنظیم بھٹکل کے صدر عنایت اللہ شاہ بندری اور جنرل سکریٹری عزیز الرحمن رکن الدین ندوی نے پروجکٹ ڈائریکٹر کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ قدوائی کراس سے گلمی کی طرف جانے کے لیے نیشنل ہائی وے عبور کرنا انتہائی دشوار اور خطرناک ہوچکا ہے، جس کے باعث یہاں کسی بھی وقت سنگین حادثہ پیش آنے کا خدشہ رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام پر انڈر پاس کی تعمیر اب ناگزیر ہوچکی ہے۔
عزیز الرحمن ندوی نے بتایا کہ مقامی لوگوں، بالخصوص قدوائی روڈ اور عثمان نگر کے عوام کی جانب سے اس سے قبل بھی کئی مرتبہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو میمورنڈم پیش کرکے انڈر پاس کی تعمیر کا مطالبہ کیا جاچکا ہے، لیکن اب تک اس سلسلے میں کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ اس موقع پر علاقے کے عوام کی جانب سے پہلے پیش کیے گئے میمورنڈم کی نقل بھی پروجکٹ ڈائریکٹر کے حوالے کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے یہاں فوری طور پر انڈر پاس کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے۔
نیشنل ہائی وے ہوراٹا سمیتی کے صدر ستیش کمار نائک نے بھی انڈر پاس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس مقام پر ٹریفک کا دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ سڑک عبور کرنا لوگوں کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنے کے مترادف بن گیا ہے۔
پروجکٹ ڈائریکٹر شیوکمار نے بتایا کہ انڈر پاس کی تعمیر کے لیے متعلقہ مقام کو بلیک اسپاٹ قرار دیا جانا ضروری ہے۔ اس پر بھٹکل کے ڈی وائی ایس پی گریش نے یقین دلایا کہ وہ اس سلسلے میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو خصوصی مکتوب روانہ کریں گے۔
اس دوران ستیش کمار نے کہا کہ اگر انڈر پاس کی تعمیر کے لیے اعلیٰ حکام کی منظوری درکار ہے اور اس میں وقت لگ سکتا ہے تو اس وقت تک حادثات کی روک تھام کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے عارضی طور پر اسپیڈ بریکر نصب کرنے کے ساتھ زیبرا کراسنگ، ٹریفک سگنل اور مناسب سمت نما بورڈ لگانے کا مطالبہ کیا۔

بعد ازاں سرکٹ ہاؤس میں نیشنل ہائی وے ہوراٹا سمیتی کے ذمہ داران، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور آئی آر بی کے افسران کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں بھٹکل میں جاری فور لین نیشنل ہائی وے کے نامکمل کاموں کے باعث عوام کو درپیش مشکلات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
میٹنگ میں ستیش کمار نائک نے موڈ بھٹکل بائی پاس سے تینگنگونڈی کراس تک پورے ہائی وے پر اسٹریٹ لائٹس نصب کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے رنگین کٹے کے مقام پر ختم ہونے والی سروس روڈ کو آگے بڑھاتے ہوئے تینگنگونڈی کراس تک توسیع دینے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔
تنظیم کے ذمہ داران نے انجمن کالج روڈ، اسپتال روڈ اور نور مسجد کے سامنے نیشنل ہائی وے سے بھٹکل کے ڈاؤن ٹاؤن کی جانب آنے والی گاڑیوں کے لیے بھی مناسب حفاظتی انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا، تاکہ مستقبل میں ممکنہ حادثات کو روکا جاسکے۔
اس موقع پر بھٹکل پولیس انسپکٹر دیواکر، تنظیم اور لبیک نوائط کے ذمہ داران، گلمی کے مقامی افراد، مقامی کونسلر، گلمی پنچایت کے اراکین اور دیگر متعلقہ افراد بھی موجود تھے۔