نئی دہلی ، 21/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)انتخابات کے دوران دہلی میٹرو میں اب کوئی سیاسی اشتہار نہیں نظر آئے گا۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس پابندی کو ہٹانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کو صحیح ٹھہرایا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ میٹرو کا براہ راست سرکاری نظام سے تعلق ہے اور اس لیے منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے یہاں سیاسی تشہیر کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس فیصلے کے بعد اشتہاری ایجنسیوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے جنہوں نے اس حکم کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے سخت ہدایات جاری کی تھیں کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے دوران دہلی میٹرو کی املاک پر کوئی سیاسی اشتہار نہیں لگایا جائے گا۔ اس فیصلے کو اشتہاری ایجنسیوں نے دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ایجنسیوں کی دلیل تھی کہ یہ پابندی ان کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔ حالانکہ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے ان دلائل کو یکسر مسترد کر دیا۔ عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ عام لوگوں کے مفادات اور انتخابات کا منصفانہ ہونا کسی بھی ایجنسی کے منافع سے زیادہ ضروری ہے۔
سماعت کے دوران اشتہاری ایجنسیوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اشتہارات جب بس اسٹینڈز پر چلائے جا سکتے ہیں تو میٹرو میں کیوں نہیں؟ اس پر ہائی کورٹ نے صورتحال پوری طرح واضح کردی۔ عدالت نے کہا کہ میٹرو کا براہ راست تعلق حکومت کی شناخت اور گورننس سے ہے۔ اسے سڑک کے کنارے بنے دوسرے عوامی مقامات یا بس اسٹینڈ کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے بھی عدالت میں واضح کیا کہ ایک سرکاری ادارہ ہونے کے ناطے وہ الیکشن کمیشن کے ضوابط کو ماننے کے لیے پوری طرح پابند ہے۔
الیکشن کمیشن نے عدالت میں اپنے اس قدم کا بھرپور دفاع کیا۔ کمیشن نے بتایا کہ انتخابات کے دوران تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع حاصل ہوسکیں، اس لیے یہ پابندی لگائی گئی ہے۔ کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ ہدایات آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جاری کی گئی تھیں، تاکہ انتخابات کے دوران کوئی بھی پارٹی سرکاری نظام کا فائدہ نہ اٹھاپائے۔ ہائی کورٹ نے بھی تسلیم کیا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کے لیے کمیشن کا یہ طریقہ کار قانونی دائرہ کار کے اندر بلکل صحیح ہے۔