ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دہلی: کانگریس کے ’ڈاکٹر امبیڈکر سمّان مارچ‘ میں امت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ، دیویندر یادو نے کی قیادت

دہلی: کانگریس کے ’ڈاکٹر امبیڈکر سمّان مارچ‘ میں امت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ، دیویندر یادو نے کی قیادت

Wed, 25 Dec 2024 11:15:40    S.O. News Service

 نئی دہلی ، 25/دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو کی قیادت میں آج صدر جمہوریہ کے نام ریجنل ڈسٹرکٹ آفیسرز کو ایک ڈیمانڈ لیٹر پیش کیا گیا، جس میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر تمام 14 ضلع کانگریس کمیٹیوں کے صدور اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔ الزام ہے کہ امت شاہ نے آئین کے معمار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کیا تھا، جس پر کانگریس پارٹی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ملک گیر مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ اسی احتجاجی مہم کے تحت دہلی کی ضلع کانگریس کمیٹیوں نے اسمبلی حلقوں اور بلاکس میں ’ڈاکٹر امبیڈکر سمّان مارچ‘ کا انعقاد کیا۔ مارچ میں شریک مظاہرین نے ڈاکٹر امبیڈکر کی تصاویر، پوسٹرز، اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، اور امت شاہ کے استعفیٰ اور عوام سے معافی مانگنے کے مطالبات کے نعرے لگائے۔

بھیم راؤ امبیڈکر کے اعزاز میں مارچ نکالنے کے بعد روہنی ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر اندرجیت سنگھ نے علی پور ضلع افسر کو، کراول نگر ضلع کے صدر آدیش بھاردواج نے نند نگری ضلع افسر کو، ساتھ ہی چاندنی چوک، آدرش نگر، بابر پور، نئی دہلی، کرول باغ، تلک نگر، نجف گڑھ، کراری، کرشنا نگر، پٹپر گنج، مہرولی اور بدرپور ضلع کے صدر وشنو اگروال کے ساتھ کانگریس لیڈران اور کارکنان نے صدر جمہوریہ کے نام ریجنل ڈسٹرکٹ آفیسرز کو ڈیمانڈ لیٹر پیش کیا۔ جس میں امت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو نے کہا کہ ’’بھیم راؤ امبیڈکر کے خلاف توہین آمیز تبصرے کے بعد وزیر اعظم مودی ملک سے معافی مانگیں۔ کانگریس پارٹی آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد ملک کے دلتوں اور پچھڑوں کے ساتھ ساتھ قطار میں کھڑے آخری فرد کو بھی مساوی حقوق دینے کی پوری کوشش کی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کانگریس کی جانب سے بھیم راؤ امبیڈکر کے ذریعہ محروم طبقے کے لیے بنائے گئے آئین کو آج بھی وہی اہمیت دی جاتی ہے جو کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے آزادی کے وقت دی تھی جب وہ ملک کے وزیر اعظم تھے۔

دیویندر یادو نے کہا کہ ہمارے قائد گزشتہ کئی سالوں سے ملک کی 95 فیصد آبادی کے حقوق اور آئین کی حفاظت کی لڑائی پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک تانا شاہ حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ بابا صاحب نے آئین میں دلتوں کو جو حقوق دیے ہیں ان کو برقرار رکھنے کے لیے ہمارے لیڈر راہل گاندھی بی جے پی سے مسلسل نبرد آزما ہیں۔ تانا شاہ حکومت کے خلاف ان کی اس لڑائی میں کانگریس پارٹی کا ایک ایک کارکن ان کے ساتھ ڈھال بن کر کھڑا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بابا صاحب کی توہین کرنے کے بعد امت شاہ کے خلاف ملکی سطح پر جس طرح لوگوں نے بلا تفریق اتحاد کا ثبوت دیا ہے۔ اس سے بی جے پی کافی گھبرائی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ بی جے پی راہل گاندھی پر مقدمہ کر کے انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن بی جے پی کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ہمارے لیڈر کو جس قدر ڈرانے کی کوشش کریں گے وہ اتنی ہی ہمت اور جوش کے ساتھ آئین کے حق میں کھڑے نظر آئیں گے۔

کانگریس صدر دیویندر یادو کے مطابق ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ بی جے پی نے آئین کے معمار کی توہین کی ہے۔ بی جے پی اور اس کے حامیوں نے اس سے قبل بھی بابا صاحب کی توہین کرنے کی کوشش کی۔ یہ سب بی جے پی کی فرقہ وارانہ سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ اسی سوچ کی وجہ سے امت شاہ نے پارلیمنٹ میں ان کے حق میں توہین آمیز تبصرہ کیا تھا۔ اسی فرقہ وارانہ اور منفی سوچ کی بنیاد پر بی جے پی ملک کی آئین کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن بی جے پی شاید یہ بھول گئی ہے اس کے اس ناپاک منصوبے کو کانگریس پارٹی اور ان کے لیڈران و کارکنان کبھی پورا نہیں ہونے دیں گے۔


Share: