ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / تامرگ بھوک ہڑتال پر، ڈلیوال کی 4 جنوری کو کھنوری بارڈر پہنچنے کی اپیل، کسانوں اور عوام سے تعاون کی درخواست

تامرگ بھوک ہڑتال پر، ڈلیوال کی 4 جنوری کو کھنوری بارڈر پہنچنے کی اپیل، کسانوں اور عوام سے تعاون کی درخواست

Sat, 04 Jan 2025 11:54:18    S.O. News Service

چندی گڑھ ، 4/جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی)کسانوں کی تحریک جاری ہے، اور خراب صحت کے باوجود پنجاب و ہریانہ کے کھنوری بارڈر پر کسان رہنما جگجیت سنگھ تامرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ کسانوں کے مطالبات کے تناظر میں تامرگ کی بھوک ہڑتال 39ویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ اس دوران، انہوں نے اعلان کیا ہے کہ 4 جنوری کو کھنوری بارڈر پر احتجاجی مظاہرے میں شدت لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں ایک عوامی اپیل بھی کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 4 جنوری کو کسانوں اور عوام کو بڑی تعداد میں کھنوری بارڈر پہنچنا چاہیے۔

کسان لیڈر جگجیت سنگھ ڈلیوال نے ویڈیو پیغام جاری کر کسانوں اور عام لوگوں سے کھنوری بارڈر پہنچ کر کسان تحریک کی حمایت کرنے سے متعلق اپیل کی ہے۔ انھوں نے 1.10 منٹ کی ویڈیو میں کسانوں اور عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’آپ سب کو پتہ ہے ایم ایس پی کی لڑائی لڑی جا رہی ہے۔ جو بھی ملک کے لوگ اس ایم ایس پی کی لڑائی کا حصہ ہیں اور مضبوطی سے اس لڑائی کو لڑنا اور جیتنا چاہتے ہیں، ان سب سے میری ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ میں 4 جنوری کو کھنوری بارڈر پر آپ سب کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ آپ سب کا دیدار کرنا چاہتا ہوں۔ آپ سب کو 4 تاریخ کو کھنوری بارڈر پہنچنا ہے اور میں اس کے لیے آپ کا شکرگزار رہوں گا۔‘‘

ایک طرف ڈلیوال نے لوگوں سے کھنوری بارڈر پر جمع ہونے کی اپیل کی ہے، دوسری طرف شمبھو اور کھنوری بارڈر پر تحریک کر رہے سنیوکت کسان مورچہ غیر سیاسی اور کسان مزدور مورچہ کے کوآرڈرنیٹر کسان لیڈر سرون سنگھ پنڈھیر ہائی پاور کمیٹی سے بات چیت کرنے نہیں پہنچے۔ انھوں نے خود اس بات کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ ’’آج سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل ہائی پاور کمیٹی سے بات چیت کرنے کے لیے ہم نہیں جا رہے، کیونکہ ہم پہلے ہی صاف کر چکے ہیں کہ یہ معاملہ عدالتوں کا نہیں ہے۔‘‘ پنڈھیر نے مزید کہا کہ ’’ہمارا مطالبہ مرکزی حکومت سے ہے، مرکزی حکومت ہم سے بات چیت کرے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے دعویٰ کیا کہ کسان تحریک میں پھوٹ ڈالنے کے لیے آج کی میٹنگ بلائی گئی ہے، جبکہ یہ کمیٹی پہلے ہی اپنی سفارشات سپریم کورٹ میں رکھ چکی ہے۔ اس کمیٹی کی جو شرائط و ضوابط ہیں، اس کے سبب ہم اس میٹنگ میں شامل نہیں ہوں گے۔


Share: