ممبئی ، 9/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) شیئر بازار میں آج صبح کا آغاز سرمایہ کاروں کے لیے کسی برے خواب جیسا رہا۔ کاروبار شروع ہوتے ہی محض 5 سیکنڈ کے اندر دلال اسٹریٹ میں ہلچل مچ گئی۔ بی ایس ای پر لسٹیڈ کمپنیوں کے مارکیٹ کیپ میں تقریباً 3 لاکھ کروڑ روپے کی بھاری کمی آ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے سرمایہ کاروں کی اتنی بڑی دولت پوری طرح سے ڈوب گئے۔ اس بھاری گراوٹ کی اصل وجہ سات سمندر پار سے آ رہی انتہائی تشویشناک خبریں ہیں۔ امریکہ نے ایران کے تیل ٹینکرز پر حملہ کیا تو ایران نے بھی جوابی کارروائی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے گلوبل مارکیٹ کے ساتھ گھریلو بازار کو بھی بری طرح جھلسا دیا ہے۔ ابتدائی جھٹکے میں ہی سینسیکس 600 پوائنٹس سے زیادہ گر گیا، وہیں نفٹی بھی ٹوٹ کر 23500 کی اہم سطح سے نیچے کھسک گیا۔ وسیع سطح پر فروخت کا زبردست دباؤ صاف دیکھا جا سکتا ہے۔
دراصل مغربی ایشیا میں ایک بار پھر جنگ کے گھنے بادل منڈلانے لگے ہیں، جس کا اثر شیئر مارکیٹ پر دکھائی دے رہا ہے۔ امریکہ نے جب ایران کے تیل ٹینکرز کو نشانہ بنایا تو ایران کی فوج نے بھی اردن میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے پر 20 بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ ایران کی آئی آر جی سی نے اسے امریکی حملوں کے جواب میں ایک ’سزا دینے والا آپریشن‘ قرار دیا ہے۔ اس براہ راست فوجی تصادم نے دنیا بھر میں جیو-پالیٹیکل کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔ اسی خوف کا اثر دنیا بھر کے شیئر بازاروں پر دکھائی دے رہا ہے۔ غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے گھبراہٹ میں زبردست فروخت شروع کر دی ہے، جس کا براہ راست خمیازہ گھریلو سرمایہ کاروں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
جنگ جیسی صورتحال کا سب سے پہلا اور بڑا اثر ہمیشہ خام تیل کی سپلائی چین پر ہوتا ہے۔ مغربی ایشیا کی کشیدگی سے گلوبل مارکیٹ میں خام تیل پوری طرح ابل گیا ہے۔ گلوبل آئل بنچ مارک برینٹ کروڈ میں تقریباً 2 فیصد کا شدید اضافہ درج کیا گیا۔ اب یہ 100 ڈالر فی بیرل کی خطرناک سطح کے انتہائی قریب پہنچ گیا ہے۔ ہندوستان اپنی ضرورت کا زیادہ تر خام تیل درآمد کرتا ہے۔ ایسے میں کروڈ آئل کی بڑھتی قیمتیں ہندوستانی معیشت کے لیے بالکل بھی اچھی خبر نہیں ہیں۔ تیل مہنگا ہونے سے گھریلو بازار میں بھی گھبراہٹ کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
بہرحال، اگر ایکویٹی بنچ مارک کے تازہ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو صبح 9.38 بجے سینسیکس 461.33 پوائنٹس (0.61 فیصد) ٹوٹ کر 75,116.25 پر کاروبار کر رہا تھا۔ وہیں نفٹی 50 بھی 109.40 پوائنٹس (0.46 فیصد) پھسل کر 23,525.70 پر آ گیا۔ تاہم، انٹرا ڈے میں حالات اور بھی خوفناک تھے۔ سینسیکس ایک وقت 608.59 پوائنٹس غوطہ لگا کر 74,968.99 تک پہنچ گیا تھا، جبکہ نفٹی 157.55 پوائنٹس ٹوٹ کر 23,477.55 تک آ گیا تھا۔ آج پورے بازار پر آئی ٹی سیکٹر نے بہت بھاری دباؤ بنایا ہوا ہے۔ نفٹی آئی ٹی انڈیکس 3 فیصد سے زیادہ کریش ہو چکا ہے۔ میٹل یا فارما میں تھوڑی بہت رونق ضرور دکھائی دی، لیکن باقی ہر سیکٹر میں سرخ نشان غالب ہے۔ تاہم، اسمال کیپ شیئروں میں گراوٹ کچھ کم دیکھنے کو ملی ہے۔ نفٹی مڈ کیپ 100 میں تقریباً آدھے فیصد کی کمزوری درج کی گئی۔
بازار میں سرمایہ کاروں کے درمیان کتنی گھبراہٹ ہے، اسے انڈیا وِکس سے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ بازار کے خوف کی پیمائش کرنے والے اس وولیٹیلٹی انڈیکس میں آج خاصہ اچھال دیکھنے کو ملا ہے۔ فی الحال یہ 3.31 فیصد کی تیزی کے ساتھ 11.61 پر پہنچ گیا ہے۔ انڈیا وِکس کے اوپر جانے کا سیدھا مطلب یہ ہوتا ہے کہ شارٹ ٹرم میں بازار کے اندر زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ اسی بھاری غیر یقینی کے ماحول میں بازار سنبھلنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔