ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / پٹنہ میں کانگریس ورکنگ کمیٹی اجلاس، جے رام رمیش نے 1940 کی قرارداد یاد دلا کر آر ایس ایس کو نشانہ بنایا

پٹنہ میں کانگریس ورکنگ کمیٹی اجلاس، جے رام رمیش نے 1940 کی قرارداد یاد دلا کر آر ایس ایس کو نشانہ بنایا

Wed, 24 Sep 2025 11:29:36    S O News

پٹنہ ، 24/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)پٹنہ میں کانگریس کی توسیع شدہ ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کا اجلاس شروع ہوا۔ اجلاس سے قبل کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایک اہم تاریخی پہلو اجاگر کرتے ہوئے 1940 کی رام گڑھ قرارداد کا ذکر کیا۔ اس قرارداد میں پہلی بار انڈین نیشنل کانگریس نے باضابطہ طور پر ایک آزاد اور خودمختار ہندوستان کے لیے آئین ساز اسمبلی کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔

جے رام رمیش نے اپنے بیان میں کہا کہ مارچ 1940 میں منعقدہ رام گڑھ اجلاس کانگریس کی آئینی جدوجہد کی راہ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس قرارداد کے ذریعے پارٹی نے واضح کر دیا تھا کہ آزادی کے بعد ملک کو ایک ایسا آئین درکار ہے جو عوام کی خواہشات کا عکس ہو۔ یہی قرارداد آگے چل کر آئین ساز اسمبلی کے قیام کی بنیاد بنی اور بالآخر 26 نومبر 1949 کو ہندوستان کا آئین منظور ہوا جو 26 جنوری 1950 سے نافذ ہوا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کی کہ وہ تنظیم، جو آج اپنا صد سالہ جشن منانے میں مصروف ہے، اسی آئین کی مخالف رہی تھی۔ اگرچہ جے رام رمیش نے تنظیم کا نام براہِ راست نہیں لیا لیکن ان کا اشارہ آر ایس ایس کی جانب ہی سمجھا گیا۔ ان کے مطابق کانگریس نے آزادی اور آئین کے حق میں تاریخی کردار ادا کیا، جبکہ کچھ طاقتیں اس وقت آئینی عمل کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کر رہی تھیں۔

جے رام رمیش نے اس موقع پر ایک اہم کتاب ’کنسٹیٹونٹ اسمبلی اینڈ آور ڈیمانڈ‘ کا ذکر بھی کیا۔ یہ کتاب جے گوپال نارنگ نے تحریر کی تھی اور اس کا پیش لفظ پنڈت جواہر لال نہرو نے لکھا تھا۔ نہرو اس وقت آئین ساز اسمبلی کے سب سے بڑے حامیوں میں شمار ہوتے تھے اور قریب ایک دہائی تک اس مطالبے کو مسلسل اٹھاتے رہے۔ رمیش نے کہا کہ یہ کتاب اور نہرو کا پیش لفظ آج بھی اس جدوجہد کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔

رام گڑھ قرارداد نے نہ صرف برطانوی حکومت کے سامنے ایک سیاسی چیلنج رکھا بلکہ ہندوستان کے مستقبل کے سیاسی ڈھانچے کی بنیاد بھی ڈالی۔ جے رام رمیش کے مطابق یہ کانگریس کی دور اندیشی تھی کہ آزادی سے برسوں پہلے ہی اس نے آئینی خاکے کی سمت طے کر دی تھی۔ خیال رہے کہ پٹنہ اجلاس کو موجودہ سیاسی حالات میں نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت اس موقع پر نہ صرف موجودہ ملکی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے بلکہ آئندہ انتخابی حکمت عملی اور سیاسی لائحۂ عمل پر بھی غور کر رہی ہے۔

جے رام رمیش نے اپنے بیان کے ذریعے اس اجلاس کو ایک تاریخی تسلسل سے جوڑتے ہوئے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ کانگریس ہمیشہ آئین اور جمہوری اقدار کی محافظ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جب ملک میں آئینی اداروں کے احترام پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، ایسے وقت میں 1940 کی قرارداد کو یاد دلانا محض ایک تاریخی حوالہ نہیں بلکہ جمہوریت کے تحفظ کے عزم کی تجدید ہے۔


Share: