نئی دہلی، 6/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) سیبی کی جانچ کا سامنا کر رہی اور اپنے منافع کو بڑھاچڑھا کر پیش کرنے والی کمپنی راجیش ایکسپورٹ کے خلاف کانگریس نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعہ جانچ پر زور دیتے ہوئے مودی حکومت کی سخت تنقید کی۔
کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے کمپنی میں ایل آئی سی کی سرمایہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کےعوام اپنے کھاتوں میں ۱۵؍لاکھ روپے آنے کی امید کررہے تھے، لیکن نریندر مودی کے دوست راجیش بھائی نے ۱۵؍لاکھ کروڑ روپے کا گھوٹالہ کردیا۔ انہوںنے کہاکہ میہول بھائی، وجے بھائی، نیرو بھائی، للت بھائی، راجیش بھائی یہ سبھی نریندر بھائی کے دوست ہیں اور یہ دوستی ملک کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔
کانگریس لیڈرنے کہا کہ سیبی نے راجیش ایکسپورٹس اور اسکے پروموٹرز پر بڑے پیمانے پر مالی فراڈ اور غبن کا الزام لگایا۔ سیبی نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کرنے میں ۷؍ ماہ کا وقت لیا۔ آخر کار جب سیبی بیدار ہوا تو اس نے ایک حکم جاری کر دیا، جس کے بعد راجیش ایکسپورٹ کے حصص کی تجارت روک دی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ۲۰۱۶ء میں ایل آئی سی نے راجیش ایکسپورٹ میں ۹۹ء۱؍ فیصد کی سرمایہ کاری کی۔ ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۶ء تک ایل آئی سی نے راجیش ایکسپورٹ میں ۸۰ء۱۰؍ فیصد سرمایہ کاری کی۔ علاوہ اسکے چھوٹے سرمایہ کاروں نے بھی اس کمپنی میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی۔
پون کھیڑا نے کہاکہ ۲۰۲۳ء میں راجیش ایکسپورٹ کے پاس ۲۸؍ ہزار کروڑ کا سرمایہ تھا لیکن ۵؍ جون ۲۰۲۶ء کو اس کا سرمایہ کم ہو کر تین ہزار کروڑ روپے رہ گیا۔ اس گھوٹالے کے نتیجے میں ہندوستانی سرمایہ کاروں کے ۲۵؍ ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
پون کھیڑا نے مزید کہا کہ مارچ ۲۰۲۴ء میں ہی ایک شیئر ہولڈر نے شکایت کی، لیکن ایل آئی سی نے راجیش ایکسپورٹ میں پیسہ لگانا جاری رکھا۔ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ مادھبی پوری بچ نے اس شکایت پر ۷؍ ماہ تک کچھ نہیں کیا۔
۲۰۱۵ء میں کمپنی نے ۴۰۰؍ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے سوئٹزر لینڈ میں ایک گولڈ ریفائنری خریدی، لیکن سیبی نے کوئی جانچ نہیں کی۔ یہ کمپنی گولڈ جیولری اور جی ای ایم ایس کا کاروبار کرتی ہے اور اس کا توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس کے باوجود ۲۳؍ مارچ ۲۰۲۲ء کو مودی حکومت نے ۱۸؍ ہزار ایک سو کروڑ روپے کی فائیو جی ڈبلیو مینوفیکچرنگ کا کام راجیش ایکسپورٹس کو سونپ دیا۔
کانگریس نے سوال کیا کہ جب یہ کمپنی اتنے بڑے پیمانے پر مالی فراڈ کررہی تھی تو آخر جانچ ایجنسیاں کہاں تھیں؟ آخر ای ڈی نے اس کی جانچ کیوں نہیں کی؟ انہوں نے سوال کیا کہ اگر حکومت کو اتنے بڑے گھوٹالے کا علم تھا تو وہ آخر کس کو بچانے کی کوشش کررہی تھی۔