نئی دہلی ، 5/جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی)ملک کے بیشتر حصے خاص طور پر شمالی ہندوستان میں اس وقت شدید سردی کی لہر جاری ہے۔ پہاڑوں پر ہونے والی برفباری اور میدانی علاقوں میں بارش کے باعث درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرد ہوا اور گھنا کہرا عوام کے لیے مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ دہلی-این سی آر، اتر پردیش، ہریانہ، پنجاب، راجستھان، بہار، مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں میں ہفتے کے روز دن بھر دھند چھائی رہی، جس نے معمولات زندگی کو متاثر کیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق جنوری کے پہلے ہفتہ سے شمال میں برفباری کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ آگے بھی جاری رہ سکتا ہے۔ اس سال کا تیسرا 'ویسٹرن ڈسٹربینس' بھی 10 جنوری تک آنے والا ہے جس کا اثر 14 جنوری تک رہ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ مہینے کے تیسرے-چوتھے ہفتہ میں بھی ٹھنڈ کا مزاج نہیں بدلنے والا۔ اس دوران 7 سے 10 جنوری کے درمیان شمالی ہند میں کئی مقامات پر بارش کے آثار ہیں جس سے درجہ حرارت میں کمی آئے گی اور ٹھنڈ میں مزید اضافہ ہوگا۔ دراصل ایک کم دباؤ والا علاقہ پنجاب سے قریب پاکستان میں بننے جا رہا ہے۔ دوسرا کم دباؤ چھتیس گڑھ میں بنا ہوا ہے۔ تیسرا بنگال کی خلیج اور چوتھا بحیرہ عرب میں بنا ہوا ہے۔ ایسے میں مرطوب ہوائیں ملک کے دونوں حصوں سے آگے بڑھیں گی اور میدانی علاقوں میں یکجا ہوں گی۔ اس سے بارش، کہرا، ٹھنڈ میں اضافہ ہونا طے ہے۔
ادھر بہار کے زیادہ حصوں میں ہفتہ کو گھنے کہرے کی وجہ سے 19 ضلعوں کا درجہ حرارت 10 ڈگری سیلسیس کے نیچے چلا گیا ہے۔ حد نگاہ کم ہونے کی وجہ سے بہار میں 25 پروازیں منسوخ کرنی پڑیں ہیں جبکہ ٹرینیں بھی تاخیر سے چل رہی ہیں۔ جھارکھنڈ میں سرد لہر اور کہرے کا قہر جاری ہے۔ ٹھنڈ کو دیکھتے ہوئے ریاست کے کے جی سے لے کر آٹھویں درجہ تک کے سبھی اسکول 13 جنوری تک بند کر دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں محکمہ تعلیم نے ہفتہ کی شام یہ اطلاع دی۔