منگلورو، 11 / جون (ایس او نیوز) مرکزی وزارت داخلہ کے ذریعے راوڈی شیٹر سہاس شیٹی قتل کی تحقیقات کی ذمہ داری نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کو سونپی گئی ہے اس پس منظر میں دکشن کنڑا کے مسلم عوامی نمائندوں کی یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ ہندوتوا وادیوں کے ذریعے کوڈوپو میں کی گئی اشرف وائیناڈ کی ماب لنچنگ اور کولتمجل عبدالرحمٰن کے قتل کی واردات کی تفتیش بھی این آئی اے کے حوالے کی جائے ۔
مسلم نمائندوں کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے قتل کیے گئے مسعود، فاضل، جلیل اور اشرف کے قاتل اس وقت ضمانت پر رہا ہو کر کھلے عام باہر گھوم پھر رہے ہیں ۔ اس جمہوری ملک میں مذہب کی بنیاد پر تفریق اور انتشار ختم ہونا چاہیے ۔ قتل کی وارداتوں میں شامل افراد کے ساتھ ان کے پیچھے جن لوگوں کا ہاتھ ہے اسے بھی سامنے لانا چاہیے ۔
عوامی مسلم نمائندوں کی یونین کے صدر سراج بجپے نے مطالبہ کیا ہے کہ اسی پس منظر میں ہندوتوا وادیوں کے ہجومی تشدد کے ذریعے قتل ہونے والے اشرف اور عبدالرحمٰن کے قتل کی تحقیقات کا کام بھی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کو سونپنے کی سفارش ریاستی حکومت کی طرف سے مرکزی حکومت کو بھیجی جائے ۔