نئی دہلی، 29/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کئی اہم سوالات اٹھائے۔ انہوں نے پہلگام دہشت گرد حملے کو انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اس کی ذمہ داری وزیر داخلہ لیں اور استعفیٰ دیں۔ کھرگے نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے خود اس حملے کو انٹیلی جنس کی ناکامی تسلیم کیا ہے۔ ایسے میں وزیر داخلہ کا خاموش رہنا مناسب نہیں۔
کھرگے نے کہا، ’’اگر ایل جی نے خود ذمہ داری لی ہے تو یہ بیان کس کے اشارے پر دیا گیا؟ کیا یہ وزیر داخلہ کو بچانے کے لیے کہا گیا یا پھر وزیر داخلہ نے انہیں یہ کہنے کو کہا؟’’ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت میں پانچ بار پہلگام میں حملے ہو چکے ہیں لیکن کوئی سبق نہیں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ماسٹر مائنڈ مارا گیا ہے تو باقی مفرور دہشت گردوں کا کیا ہوا، وہ کب پکڑے جائیں گے؟
انہوں نے سیز فائر کے معاملے پر بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اچانک جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا جبکہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ ہم فرنٹ فٹ پر تھے اور پاکستان گھٹنے ٹیک چکا تھا۔ سوال یہ ہے کہ سیز فائر کی پہل کس نے کی؟ کس نے اعلان کیا؟ نہ وزیر اعظم، نہ وزیر خارجہ، نہ وزیر دفاع، بلکہ امریکہ کے سابق ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن سے اعلان کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے جنگ رکوائی۔
کھرگے نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’مودی جی گالیاں گننے کا حساب رکھتے ہیں لیکن جب ٹرمپ ہندوستان کے خلاف دعوے کرتے ہیں تو مودی جی چپ کیوں ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ 29 بار کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے سیز فائر کرایا لیکن مودی حکومت اس کی نہ تردید کرتی ہے نہ تصدیق۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ہندوستان کی دیرینہ پالیسی کے خلاف ہے جس میں ہم کسی بھی تیسرے فریق کی ثالثی قبول نہیں کرتے۔
کھرگے نے کہا کہ ’ہاوڈی مودی‘ اور ’نمستے ٹرمپ‘ جیسے پروگراموں سے ہندوستان کے مفادات محفوظ نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وزیر اعظم صرف تصویریں کھنچوانے اور ہاتھ ملانے کی سفارت کاری کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی حقیقت اب کھل چکی ہے۔
کھرگے نے مزید کہا کہ وزیر دفاع کہتے ہیں وہ جھگڑے میں نہیں پڑتے لیکن جب ہم وزیر اعظم سے سوال کرتے ہیں تو وزیر داخلہ آ کر بولنے لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم اتنے مصروف ہیں تو پھر ان کی خاموشی کو عوام کیسے قبول کرے؟‘‘ کھرگے نے طنز کرتے ہوئے کہا، ’’یہاں نہیں، وہاں نہیں، کیا آسمان میں بیٹھے ہیں؟‘‘
ریاست مدھیہ پردیش کے ایک وزیر کا حوالہ دیتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ جنہوں نے ہماری بیٹیوں کو بیوہ کیا، انہی کی بہن کو فوج میں بھیج کر بدلہ لیا گیا، ایسے بیانات دیے گئے جن کی تردید سپریم کورٹ نے کی لیکن بی جے پی قیادت خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی بیوہ خواتین کو ٹرول کیا جا رہا ہے اور حب الوطنی کا ٹھیکہ صرف حکومت نے لے رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے پہلگام حملے کے بعد سی ڈبلیو سی میٹنگ میں فوج کے اعزاز میں قرارداد منظور کی، جے ہند یاترا نکالی اور حکومت کے ساتھ اتحاد کا مظاہرہ کیا لیکن مودی جی انتخابی تقریروں میں اپوزیشن کو نشانہ بناتے پھر رہے ہیں۔ آخر میں کھرگے نے سوال اٹھایا کہ مودی جی پارلیمنٹ میں موجود کیوں نہیں تھے؟ جب سننے کی صلاحیت نہیں ہو، تو کرسی پر بیٹھنے کا بھی حق نہیں بچتا۔ کیا یہی آپ کی دیش بھکتی ہے؟