ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / تجاوزات ہٹانے کی کارروائی میں حد سے تجاوز، کلکتہ ہائی کورٹ کا منہدم عمارت دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم

تجاوزات ہٹانے کی کارروائی میں حد سے تجاوز، کلکتہ ہائی کورٹ کا منہدم عمارت دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم

Tue, 15 Sep 2026 22:46:57    S O News
تجاوزات ہٹانے کی کارروائی میں حد سے تجاوز، کلکتہ ہائی کورٹ کا منہدم عمارت دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم

کولکاتا، 15 ستمبر (ایس او نیوز): کلکتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال کے مشرقی مدنی پور ضلع میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران ایک قانونی طور پر تعمیر شدہ دو منزلہ تجارتی عمارت کو بھی منہدم کیے جانے کے معاملے میں حکام کو سخت تنبیہ کی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ دستیاب شواہد سے واضح ہے کہ انتظامیہ نے تجاوزات ہٹانے کے لیے مقررہ حدود سے آگے بڑھ کر درخواست گزاروں کی تعمیر بھی منہدم کردی۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو منہدم عمارت کو دوبارہ تعمیر کرنے، متاثرہ افراد کو تعمیر مکمل ہونے تک مفت متبادل رہائش فراہم کرنے اور 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ فیصلہ جسٹس پارتھا سارتھی سین نے 8 ستمبر 2026 کو کویِتا منّا اور ایک دیگر کی جانب سے دائر درخواست پر سنایا۔ معاملہ  مشرقی مدنی پور کے ایک علاقے سے متعلق ہے، جہاں درخواست گزاروں نے مقامی گرام پنچایت سے منظور شدہ نقشے کے تحت دو منزلہ تجارتی عمارت تعمیر کی تھی۔ دوسرے درخواست گزار اسی عمارت میں اپنا کاروبار بھی چلا رہے تھے۔

تنازع کیسے شروع ہوا؟
یہ معاملہ سرکاری اراضی پر مبینہ تجاوزات ہٹانے کی کارروائی سے شروع ہوا۔ 2024 میں کلکتہ ہائی کورٹ کی ایک دوسری بنچ نے حکام کو ہدایت دی تھی کہ اگر PWD سڑک پر غیر قانونی تجاوزات موجود ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ اس کے بعد متعلقہ حکام نے سرکاری زمین کی دوبارہ  پیمائش اور حد بندی کرائی۔

10 ستمبر 2024 کو ریونیو انسپکٹر نے موقع کا معائنہ کرکے رپورٹ اور نقشہ تیار کیا، جبکہ 17 مارچ 2025 کو دوبارہ فیلڈ انکوائری کی گئی۔ ان رپورٹس میں سرکاری پلاٹوں پر مبینہ تجاوزات کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد متعلقہ ایگزیکٹیو انجینئر نے تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا۔

درخواست گزاروں نے اس کارروائی کو عدالت میں چیلنج کیا اور مارچ 2025 میں عبوری حکمِ امتناع بھی حاصل کیا۔ بعد میں معاملہ ڈویژن بنچ تک پہنچا۔ 19 مئی 2025 کو ڈویژن بنچ نے ریکارڈ کیا کہ ریاستی حکام نے سرکاری زمین پر موجود غیر مجاز تعمیرات منہدم کردی ہیں، تاہم درخواست گزاروں نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران ان کی اپنی جائیداد بھی منہدم کردی گئی۔ انہیں اس اضافی انہدام کے خلاف الگ سے قانونی چارہ جوئی کی اجازت دی گئی۔

ہائی کورٹ نے کیا پایا؟
ریاستی حکام نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ثبوت پیش نہیں کرسکے کہ انتظامیہ نے مقررہ حدود سے آگے بڑھ کر انہدام کیا ہے۔ ریاست نے یہ بھی کہا کہ معاملے میں حقائق کا تنازع موجود ہے جس کا فیصلہ عام طور پر رِٹ پٹیشن میں نہیں کیا جانا چاہیے۔
تاہم جسٹس پارتھا سارتھی سین نے ریکارڈ، نقشوں اور دیگر دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد اس دلیل کو قبول نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ اگرچہ رِٹ عدالتیں عام طور پر پیچیدہ حقائق کے تنازعات میں ٹرائل کورٹ کا کردار ادا نہیں کرتیں، لیکن جب دستاویزی شواہد کافی ہوں تو وہ معاملے کا فیصلہ کرسکتی ہیں۔

عدالت کے مطابق حکام نے سرکاری پلاٹوں پر موجود مبینہ تجاوزات کے ساتھ ساتھ درخواست گزاروں کی LR Plot No. 650 پر موجود تعمیر بھی منہدم کردی۔ عدالت نے نتیجہ اخذ کیا کہ انتظامیہ نے اپنے مجاز دائرۂ کار سے تجاوز کیا اور درخواست گزاروں کی جائیداد کو ’’بغیر کسی قانونی اختیار‘‘ کے منہدم کیا گیا۔

حکومت کو دو سال میں عمارت دوبارہ بنانی ہوگی:
ہائی کورٹ نے متعلقہ اتھارٹی کو ہدایت دی ہے کہ درخواست گزاروں کے پیش کردہ منظور شدہ نقشے کے مطابق نئی دو منزلہ عمارت تعمیر کی جائے۔ عدالت نے تعمیر مکمل کرنے کے لیے فیصلے کی نقل موصول ہونے کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ دو سال کی مدت مقرر کی ہے۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد عمارت کا قبضہ دوبارہ درخواست گزاروں کے حوالے کرنا ہوگا۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ جب تک نئی عمارت تیار نہیں ہوجاتی، متاثرہ درخواست گزاروں کو ترجیحاً اسی علاقے میں مفت متبادل رہائش فراہم کی جائے۔ یعنی عدالت نے محض مالی معاوضے پر معاملہ ختم نہیں کیا بلکہ متاثرہ فریق کی جائیداد کو ممکنہ حد تک سابقہ حالت میں بحال کرنے کی ذمہ داری بھی متعلقہ حکام پر عائد کی ہے۔

10 لاکھ روپے معاوضہ بھی:
ہائی کورٹ نے متاثرہ درخواست گزاروں کو مجموعی طور پر 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ یہ رقم دو مساوی قسطوں میں ادا کی جائے گی؛ 5 لاکھ روپے اکتوبر 2026 کے آخری دن تک اور باقی 5 لاکھ روپے فروری 2027 کے آخری دن تک ادا کرنے ہوں گے۔

فیصلے کی اہمیت:
یہ فیصلہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کی اجازت انتظامیہ کو کسی جائیداد کو مقررہ حدود سے باہر جاکر منہدم کرنے کا اختیار نہیں دیتی۔ اس معاملے میں عدالت نے سرکاری کارروائی کی قانونی حدود کی خلاف ورزی پائے جانے پر صرف معاوضہ دینے کا حکم نہیں دیا بلکہ سرکاری اتھارٹی کو اپنی غلط کارروائی کے نتیجے میں منہدم کی گئی عمارت دوبارہ تعمیر کرنے کا بھی پابند بنایا ہے۔ 


Share: