ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گوا میں بی جے پی کی گئو رکھشک سرکار - عروج پر ہے گئو ہتھیا کا کاروبار

گوا میں بی جے پی کی گئو رکھشک سرکار - عروج پر ہے گئو ہتھیا کا کاروبار

Mon, 10 Feb 2025 19:32:35    S O News

پنجی  ، 10 / فروری (ایس او نیوز) گئو ہتھیا کو لے کر بی جے پی اور سنگھ پریوار والے ایک طرف ملک بھر میں ہلّہ مچا رہے ہیں اور اسے خاص کر مسلمانوں کے ساتھ جوڑتے ہوئے ملک کے کسی نہ کسی گوشے میں روزانہ تشدد اور حملوں کی وارداتیں انجام دے رہے ہیں ، لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ مرکز اور اتر پردیش میں بی جے پی حکومت کے ناک نیچے ہی بیرونی ممالک کو لاکھوں ٹن گائے کا گوشت رفت کرنے کا کام غیر مسلم کمپنیوں کے ذریعے کیا جاتا ہے ۔ 
    
اسی طرح اب گوا کی گئو رکھشک بی جے پی حکومت  میں بھی بہت بڑے پیمانے پر گائے کا گوشت بیرونی ملک کو رفت کیے جانے کی خبریں آ رہی ہیں، جبکہ گوا کے پڑوس میں کرناٹکا کی کانگریسی حکومت میں گئو ہتھیا کے خلاف زبردست مہم چلائی جا رہی ہے اور پوری ریاست میں ماحول کو گرمایا جا رہا ہے ۔ 
    
گوا سے ملی رپورٹ کے مطابق سرکاری سرپرستی والی گوا میٹ کامپلیکس نامی کمپنی گائے کا گوشت بیرونی ممالک کو رفت کرنے کا کاروبار کر رہی ہے ۔ ریاست موجود بیف کھانے والوں کی کھپت پورا کرنے کے مقصد یہ کمپنی قائم کی گئی تھی اور اس کمپنی کی پارٹنرشپ کرناٹکا کی سن فیسٹ ایگرو فوڈس کے ساتھ ہے ۔         
    
کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر راجیش کینی کا کہنا ہے کہ کمپنی   روزانہ 300 گائیں ذبح کرکے گوشت بنانے اور مہینے میں 20 کنٹینر گوشت سپلائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔  ہر گائے پر کمپنی کو پانچ سو روپے کا منافع ہوتا ہے ۔ گوا میں مطلوبہ تعداد میں مویشی مہیا نہ ہونے کی وجہ سے کرناٹکا اور مہاراشٹرا جیسی پڑوسی ریاستوں سے مویشی حاصل کیے جاتے ہیں ۔     
    
اس کمپنی نے گزشتہ ہفتے 28.5 ٹن گائے کا گوشت عراق کو رفت کیا ہے ۔ کمپنی نے دنیا کے آٹھ ممالک کے ساتھ گوشت فراہمی کا معاہدہ کیا ہے ۔ مقامی عیسائیوں کو اس بات پر اعتراض ہے کہ مقامی آبادی کی ضرورت پورا کرنے کے مقصد سے قائم کی گئی گوا میٹ کامپلیکس نامی کمپنی اب مقامی افراد کو گوشت فراہم کرنے کے بجائے بیرونی ممالک کو بیف سپلائی کرنے میں مصروف ہوگئی ہے ۔ بجرنگ دل نے گائے کا گوشت رفت کرنے کے کاروبار کی سختی سے مخالفت کی ہے ۔ دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ ہم گائیں ذبح نہیں کر رہے ہیں بلکہ بھینسیں اور بیل ذبح کر رہے ہیں ۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ پرانی دَیا سنگھا اس معاملے پر پوری طرح خاموش ہے ۔ 


Share: