ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / "بی جے پی وہ ماچس کی تیلی ہے جس نے منی پور کو جلایا"، کھرگے کا پی ایم مودی پر تازہ حملہ

"بی جے پی وہ ماچس کی تیلی ہے جس نے منی پور کو جلایا"، کھرگے کا پی ایم مودی پر تازہ حملہ

Sat, 04 Jan 2025 18:52:56    S.O. News Service

نئی دہلی، 4/جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی)منی پور میں تشدد کی لہر ابھی تک نہیں رکی ہے اور کانگریس مسلسل اس پر پی ایم مودی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ 3 جنوری کو پیش آنے والے تازہ تشدد کے واقعہ پر بھی کانگریس نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو اپنے آئینی فرض یعنی ’راج دھرم‘ کو نبھانے سے بچا نہیں جا سکتا اور انہیں اس سلسلے میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اس معاملے میں ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے۔ اس پوسٹ میں انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی کا منی پور میں تشدد کو فروغ دینے میں کوئی نہ کوئی مفاد ضرور ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی ہی وہ ماچس کی تیلی ہے جس نے منی پور کو جلایا۔ ’ایکس‘ پر کیے گئے اپنے پوسٹ میں کھڑگے نے تازہ تشدد سے متعلق ایک خبر کا تراشہ بھی شیئر کیا ہے۔

اپنے پوسٹ میں کھرگے نے وزیر اعظم کے منی پور دورہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی جی، آپ جنوری 2022 میں منی پور کا دورہ کرنے گئے تھے، وہ بھی بی جے پی کے لیے ووٹ مانگنے۔ جبکہ ریاست میں 3 مئی 2023 کو تشدد بھڑکا تھا۔ 600 دن سے زیادہ گزر گئے۔ میڈیا رپورٹ میں سیٹلائٹ تصویریں دکھائی گئی ہیں، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایک کے بعد ایک گاؤں کا صفایا ہوتا جا رہا ہے۔‘‘

کھرگے کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کانگپوکپی ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ پر حملے کا واقعہ بھی سامنے آیا ہے۔ اس حملے میں پولیس اہلکار اور مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔ کانگریس صدر نے مزید کہا کہ نااہل اور بے شرم وزیر اعلیٰ نے ریاست کے حالات پر افسوس ظاہر کیا ہے، لیکن ریاستی عوام کو ایک طرح سے نظر انداز کر دیا ہے۔ کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کا ریاست کو غیر مستحکم رکھنے میں کوئی مفاد پوشیدہ ہے۔ 250 سے زائد بے قصور افراد مارے جا چکے ہیں اور 60 ہزار سے زیادہ لوگ نقل مکانی کو مجبور ہوئے ہیں۔ ہزاروں افراد 20 ماہ سے پناہ گزیں کیمپوں میں رہنے کو مجبور ہیں۔ منی پور میں امن قائم کرنا مرکزی اور ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے، یہ بات سپریم کورٹ نے بھی کہی ہے۔

ملکارجن کھرگے نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ 6 دسمبر کو منی پور میں انڈیا بلاک کی پارٹیوں نے منی پور معاملے میں تین عام اور ضروری گزارشات کی تھیں۔ گزارشات تھیں کہ 2024 کے ختم ہونے سے پہلے منی پور کا دورہ کریں، دہلی میں سبھی سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کو بلا کر بات کریں، اور منی پور میں براہ راست مداخلت کریں... لیکن وزیر اعظم نے ان میں سے کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا۔ کانگریس صدر کہتے ہیں کہ بھلے ہی وزیر اعظم ان میں سے کچھ نہ کریں، لیکن وہ آئینی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔


Share: