پٹنہ ، 30/دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)پٹنہ میں بی پی ایس سی امیدواروں کا احتجاج ایک بار پھر پرتشدد شکل اختیار کر گیا۔ اتوار (29 دسمبر) کو گاندھی میدان میں احتجاج کی اجازت نہ ملنے کے باوجود طلباء بڑی تعداد میں جمع ہو گئے اور اپنا مظاہرہ جاری رکھا۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے صبح سے ہی علاقے کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر پولیس نے مظاہرین کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن شام کے وقت حالات بے قابو ہو گئے، جس کے بعد پولیس کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کرنا پڑا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل 25 دسمبر کو بھی ایسا ہی احتجاج ہوا تھا، جس میں پولیس کارروائی کے نتیجے میں کئی طلباء زخمی ہو گئے تھے۔
دراصل سبھی امیدوار شام ہوتے ہی پرشانت کشور کی سربراہی میں جے پی گولمبر کے راستے سی ایم ہاؤس جانے لگے۔ راستے میں پولیس کی جانب سے احتجاجی طلباء کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن طلباء نے پولیس بیریکیڈنگ توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ طلباء نے عام گاڑیوں کو روک کر راستہ بلاک کرنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد پولیس نے طلباء پر لاٹھی چارج کر دیا۔ حالانکہ لاٹھی چارج کے بعد طلباء نے اپنی احتجاجی شدت کو مزید بڑھا دیا۔
قابل ذکر ہے کہ ضلع انتظامیہ نے ہفتہ کو ایک نوٹس جاری کر کے احتجاج پر پابندی لگا دی تھی۔ اس کے باوجود پرشانت کشور کی سربراہی میں ہزاروں طلباء گاندھی مجسمہ کے قریب پہنچ کر مظاہرہ کرنے لگے۔ حالانکہ ہفتہ کو ہی پرشانت کشور نے پُرامن طریقے سے مظاہرے کی پولیس انتظامیہ سے اجازت مانگی تھی۔ انتظامیہ نے پرشانت کشور کو احتجاج کی اجازت نہیں دی تھی۔ واضح ہو کہ 13 دسمبر کو بی پی ایس سی کے امتحان میں ہوئی بدعنوانی اور بے ضابطگی کی وجہ سے طلباء امتحان کی مکمل منسوخی کو لے کر احتجاج کر رہے ہیں۔