بھوپال، 12 اکتوبر (ایس او نیوز) مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں ایک فائنل ایئر انجینئرنگ طالب علم کی مبینہ طور پر پولیس تشدد کے بعد موت ہو گئی۔ حیرت انگیز طور پر، مرنے والا طالبعلم ریاستی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کا رشتہ دار تھا۔
بتایا گیا ہے کہ مہلوک 22 سالہ اُدیت گیاکی، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس چیتن آگلک (تعینات ضلع بالاگھاٹ) کے بہنوئی تھے، جمعہ کی شب دو پولیس اہلکاروں کی مارپیٹ کے بعد دم توڑ گئے۔
اُدیت کے اہلِ خانہ نے دونوں ملزم کانسٹیبلوں—سنتوش بامنیہ اور سوربھ آریہ—کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے اور انہیں فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ واقعے کے فوراً بعد دونوں اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا، تاہم تاحال گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تقریباً ڈیڑھ بجے پیش آیا، جب اُدیت اور اس کے پانچ دوست اندراپوری علاقے کے C سیکٹر میں پارٹی کر رہے تھے کی اچانک پولس آگئی، عینی شاہد دوستوں کے مطابق، جیسے ہی پولیس اہلکاروں کو دیکھا، اُدیت گھبرا کر ایک تاریک گلی کی طرف بھاگ گیا۔ اسی دوران دونوں کانسٹیبل اس کے پیچھے گئے، اور کچھ دیر بعد اس کی چیخوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔
اُدیت کے دوستوں کا کہنا ہے کہ جب وہ موقع پر پہنچے تو دیکھا کہ اس کی قمیض اُتار دی گئی تھی اور جسم پر متعدد چوٹوں کے نشانات تھے، خصوصاً سر اور کمر پر۔ ایک دوست کے مطابق، اہلکاروں نے دس ہزار روپے رشوت مانگی تھی تاکہ معاملہ رفع دفع کیا جا سکے، اور انکار پر مارپیٹ شروع کر دی۔ چند لمحوں بعد اُدیت بیہوش ہو گیا۔ اُسے فوراً ایمس بھوپال لے جایا گیا، مگر ڈاکٹروں نے اُسے مردہ قرار دیا۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق ابتداء میں پولس اس کی موت کو ہارٹ اٹیک قرار دے رہی تھی، مگر پوسٹ مارٹم رپورٹ کے ساتھ ساتھ مارپیٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج وائرل ہونے کے بعد پولس کانسٹیبل کے خلاف معاملہ درج کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ اُدیت کے جسم پر ایک درجن سے زائد چوٹوں کے نشانات تھے—کندھوں، کمر، پیٹ، ماتھے، آنکھوں کے اطراف، کانوں اور سر کے پچھلے حصے پر۔ رپورٹ میں موت کی وجہ ’’شدید جسمانی تشدد‘‘ اور ’’لبلبے کو پہنچنے والا نقصان‘‘ بتایا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس (زون 2) ویویک سنگھ نے تصدیق کی کہ دونوں اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں واضح ہے کہ متوفی کے لبلبے کو نقصان پہنچا، تاہم یہ کس نوعیت کی ضرب سے ہوا، اس کی تفصیل مزید تحقیقات کے بعد سامنے آئے گی۔‘‘
سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک پولیس اہلکار اُدیت کو ڈنڈے سے مار رہا ہے جبکہ دوسرا اسے پکڑے ہوئے ہے۔
اُدیت کے والد راج کمار سرکاری ملازم ہیں جبکہ والدہ اسکول ٹیچر ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میرا بیٹا معصوم تھا، اس نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ جو پولیس والے اس پر ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں، انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔‘‘
مقامی لوگوں نے اس واقعہ پر ریاستی پولیس کے نظم و ضبط پر گہرے سوالات اٹھائے ہیں۔ عوامی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ جب ایک اعلیٰ پولیس افسر کے رشتہ دار کے ساتھ یہ سلوک ہو سکتا ہے تو عام شہری کس قدر محفوظ ہیں؟ ریاستی حکومت نے شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے، مگر انصاف کب اور کس سطح پر ملے گا، یہ دیکھنا باقی ہے۔