بھٹکل 15/مئی (ایس او نیوز) : شمس الدین سرکل کے قریب ساگر روڈ پر سڑک کی توسیع اور کانکریٹ روڈ کا تعمیری کام تیزی سے جاری ہے، جس کی وجہ سے بعض مقامات پر یک طرفہ ٹریفک نافذ کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں کام سڑک کے دائیں جانب شروع ہوا تھا، مگر اب بائیں جانب جاری ہے۔
ساگر روڈ بھٹکل کا ایک اہم اور مصروف راستہ ہے، جہاں سرکاری اسپتال، بلاک ایجوکیشن آفس، کے ایس آر ٹی سی ڈپو، پولیس کوارٹرس، محکمہ جنگلات کے مکانات، کالجز، اسکولز اور ایک مندر واقع ہے۔ ان اداروں کی موجودگی کے باعث یہاں ہمہ وقت گاڑیوں اور پیدل راہ گیروں کی آمدورفت رہتی ہے۔ سڑک کنارے غیر قانونی باکڑوں اور تجاوزات کے سبب پہلے ہی ٹریفک کی روانی متاثر تھی، مگر اب تعمیراتی کام کی وجہ سے ٹریفک جام ایک معمول بن چکا ہے۔
شمس الدین سرکل سے ساگر روڈ کی طرف مُڑتے ہی غیر قانونی پارکنگ، فٹ پاتھ پر ٹھیلے اور نالوں پر بنے باکڑے نہ صرف پیدل چلنے والوں کے لیے رکاوٹ ہیں بلکہ بارش شروع ہوتے ہی پانی کی نکاسی بھی اس سے مکمل طور پر متاثر ہو تی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جب سے نالوں پر قبضہ کر کے باکڑے قائم کیے گئے ہیں، ہر سال برسات میں سرکل کے اطراف سڑک پر پانی جمع ہوجاتا ہے، جس سے نیشنل ہائی وے 66 کی ٹریفک گھنٹوں تک متاثر رہتی ہے۔
شہریوں نے انتباہ دیا ہے کہ اگر شمش الدین سرکل سے اسپتال کراس تک سڑک کنارے غیر قانونی ٹھیلوں اور باکڑوں کو فوری طور پر نہ ہٹایا گیا، تو مستقبل میں سنگین حادثات اور جھگڑے ہو سکتے ہیں۔
یہ صورتِ حال صرف ساگر روڈ تک محدود نہیں، بلکہ بندر روڈ سمیت بھٹکل کے دیگر کئی علاقوں میں بھی یہی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کئی ٹھیلوں کو اب مستقل شکل دے دی گئی ہے—پتھروں کی بنیاد اور لوہے کی چادروں سے چھت، حتیٰ کہ بعض باکڑوں کو بجلی کے کنکشن بھی دیے گئے ہیں۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب گھروں اور دکانوں کو رجسٹریشن دستاویزات کے بغیر HESCOM بجلی فراہم نہیں کرتا، تو ان غیر قانونی باکڑوں کو کن بنیادوں پر بجلی کے میٹر دیے گئے ہیں؟
برسات کے موسم میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ نالوں پر تجاوزات کی وجہ سے پانی کی نکاسی رک جاتی ہے، اور شمش الدین سرکل کے اطراف پانی کی سطح بڑھ جاتی ہے، جو ٹریفک میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہے۔ اس کے باوجود میونسپل حکام اور متعلقہ ادارے مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ سماجی ادارے بھی اس جانب توجہ نہیں دے رہے ہیں۔
یہ باکڑے نہ صرف ٹریفک اور صفائی کے مسائل پیدا کر رہے ہیں بلکہ عوامی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض باکڑوں میں شراب فروشی اور جوا جیسے غیر قانونی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اکثر جگہوں پر شراب کی خالی بوتلیں بھی پائی جاتی ہیں، جبکہ انہی راستوں سے روزانہ سینکڑوں طلبہ اسکول اور کالج جاتے ہیں۔گزشتہ سال بارش کا پانی ہائی وے پر جمع ہونے کی وجہ سے ساگر روڈ کے نالے کی صفائی کرائی گئی تو نالے سے سینکڑوں شراب کی بوتلیں برآمد کی گئی تھیں۔
بندر روڈ پر بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ متعدد باکڑوں میں شراب فروشی اور جوئے کا غیر قانونی کاروبار بغیر کسی روک ٹوک کے جاری ہے۔ خاص طور پر عیدگاہ کی دیوار کے قریب پیشاب کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جو اس مقام کی مذہبی حساسیت کے باعث شدید فرقہ وارانہ کشیدگی کا سبب بن سکتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ان سنگین مسائل کے باوجود نہ میونسپالٹی حرکت میں آتی ہے، نہ پولیس کوئی کارروائی کرتی ہے، اور نہ ہی پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ یا نیشنل ہائی وے اتھارٹی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر مختلف محکمے آپس میں ہم آہنگی کے ساتھ کارروائی کریں، غیر قانونی تجاوزات کو ہٹایا جائے اور عوام کی آزادانہ، محفوظ آمدورفت کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔