بھٹکل، 15 جون (ایس او نیوز): دو دنوں تک بارش میں کمی کے بعد، اتوار کو بھٹکل میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش نے قہر ڈھایا، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں سے نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ دو افراد کی ہلاکت کی خبریں بھی ملی ہیں۔ تاہم، سرکاری سطح پر تاحال یہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ یہ اموات قدرتی آفت یا بارش کے سبب ہوئی ہیں یا نہیں۔
اتوار دوپہر قریب سوا ایک بجے تیز طوفانی ہوائیں چلیں، جنہوں نے کئی گھروں کی چھتیں اُڑا دیں، درختوں کے گرنے سے مکانات کو نقصان پہنچا، دکانوں کے سائن بورڈ زمین پر آ گرے، اور بجلی کے کھمبوں کو نقصان پہنچنے سے برقی سپلائی بھی متاثر ہوئی۔
ایک شخص کی موت تعلقہ کے بلال کھنڈ میں پیش آئی، جہاں مادیو نارائن دیواڈیگا (50) گلمے-بلال کھنڈ میں ایک فیکٹری کے پیچھے سے پیدل اپنے گھر جاتے ہوئے بارش کے پانی میں بہہ کر ڈوب گئے۔ ان کی اہلیہ لکشمی دیواڈیگا نے اس تعلق سے پولیس تھانے میں شکایت درج کرائی، جس کے بعد نعش کو پوسٹ مارٹم کے بعد لواحقین کے حوالے کیا گیا۔ دوسری ہلاکت شرالی ملّاری سے رپورٹ ہوئی، جہاں منجوناتھ کُپّا نائک (45) اپنے گھر کے قریب پانی سے بھرے ہوئے گڈھے میں گر کر جاں بحق ہوگئے۔
Click here to watch Video clip
تحصیلدار دفتر سے ملی تفصیل کے مطابق، ہدلور گاؤں میں ناگیّا گوئدا گونڈا، منجوناتھ سنّو گونڈا، اور سُکرا منگل گونڈا کے مکانات کی چھتوں کو جزوی نقصان پہنچا، پڈوشیرالی بینگرے-2 میں نارائن دُرگپّا نائک کے مکان پر ناریل کا درخت، کوپّا کولکّی میں شانتی ایشور مراٹھی کے مٹی کے مکان کی دیوار، بینگرے-2 میں منجمّا سُبرایا دیواڈیگا کے مکان پر سُپاری کا درخت، اور موڈبھٹکل میں رگھورام پانڈورنگ بھٹ کے مکان پر پیپل کا درخت گرنے سے مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔ پُورور گا کی کیرتی نگر ماجیرا میں واقع ویر جٹّاگیشور مندر پر ایک بڑا درخت گر گیا، وی وی روڈ بھٹکل میں ستیش کامتھ اور لتا کامتھ کے مکان پر درخت گرنے سے چھت کو نقصان ہوا، جبکہ گووند ہنّیا دیواڈیگا کے مکان کی چھت مکمل طور پر اُڑ گئی، اور آس پاس کے چار دیگر مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔ ہڈیل گاؤں میں درگیا ناگپّا شیرگار اور ششی کلا کرشنا شیرگار کے مکانات کو جزوی نقصان ہوا، مخدوم کالونی بھٹکل میں ممتاز بیگم زوجہ ابراہیم سید کے مکان کی چھت اُڑ گئی، اور وی وی روڈ ماروتی نگر میں ونود پربھو کے مکان پر کٹہل کا درخت گرنے سے چھت اور پانی کی ٹنکی کو نقصان پہنچا۔

مزید کئی مقامات پر مکانات کی چھتیں اُڑنے کی خبریں ہیں جن کی شکایتیں درج نہیں ہوئیں، جبکہ شہر کے مین روڈ پر کئی دکانوں کے سائن بورڈس اور ایک ہوٹل کی چھت اُڑ گئی، ایک کمپلیکس کی اوپری منزل میں رکھی بچوں کی ملبوسات کی اشیاء بھی طوفانی ہوائیں اُڑا لے گئیں۔
محکمہ ہیسکام کے مطابق ہفتہ رات سے اتوار شام تک شدید بارش اور طوفانی ہواؤں کے سبب بجلی کے کھمبے اور تاروں پر درخت گرنے سے شدید نقصان ہوا۔ ہیسکام کے مطابق 27 بجلی کے کھمبے اور 3 ٹرانسفارمر طوفان کی زد میں آکر گر گئے، جس سے بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ تاہم، ہیسکام اہلکار مرمت کے کاموں میں مصروف ہیں ۔
یاد رہے کہ جمعہ صبح آٹھ بجے سے سنیچر صبح آٹھ بجے تک 36.9 ملی میٹر بارش ناپی گئی تھی، جبکہ سنیچر صبح آٹھ بجے سے اتوار صبح آٹھ بجے تک 43 ایم ایم بارش ریکارڈ کی گئی، البتہ آج اتوار صبح سے وقفے وقفے سے ہی سہی مگر زور دار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
