بھٹکل، یکم جون (ایس او نیوز) – بھٹکل کے شفا کراس علاقے میں واقع نبیلا مینشن میں بدھ یا جمعرات کی شب چوری کی ایک واردات اس وقت ناکام ہو گئی جب چوروں کو مکان میں موجود قیمتی زیورات اور نقد رقم نہ مل سکی۔ واردات کے دوران چوروں نے کئی الماریوں اور دروازوں کو توڑ کر گھر میں خوب تلاشیاں لیں، مگر انہیں غالباً خالی ہاتھ ہی لوٹنا پڑا۔
متاثرہ مکان مالک مرحوم محمد غوث سعدا کے قریبی رشتہ دار جناب امتیازدامدا، جو بھٹکلی جماعت المسلمین مینگلور کے صدر بھی ہیں، نے میڈیا کو بتایا کہ ان کا سالا 24 مئی کو فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے روانہ ہوا تھا، جس کے بعد سے مکان بند تھا۔ امتیاز دامدا اپنی فیملی کے ساتھ مینگلور میں رہتے ہیں، جمعہ کو اپنی فیملی کے ہمراہ متاثرہ مکان پہنچنے پر انہیں گھر کے اندر چوروں کےگھسنے کا علم ہوا۔
گھر کے اندر داخل ہونے پر پتہ چلا کہ بیڈرومز میں رکھی تمام الماریاں کھلی ہوئی تھیں اور ان کا سامان پلنگوں اور فرش پر بکھرا ہوا تھا۔ ایک مضبوط الماری جس میں تالا لگا ہوا تھا، اُسے غالباً لوہے کی سلاخ کی مدد سے توڑا گیا۔ تاہم خوش قسمتی سے گھر کے افراد نے روانگی سے قبل زیورات اور نقدی کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دی تھی، اس لیے چوروں کو وہ سب کچھ نہیں مل سکا جس کی انہیں تلاش تھی۔
امتیاز دامدا کے مطابق چوروں نے نہ صرف گراؤنڈ فلور اور فرسٹ فلور کو کھنگالا بلکہ عمارت کی چھت پر بھی جا پہنچے، جہاں سامان بکھرا پڑا تھا۔ داخلی دروازے کے قریب ایک بھاری بھرکم ماٹ (نہانے کا پانی گرم کرنے والی ہانڈی) بھی پائی گئی، جسے شاید چور اٹھا کر لے جانے میں ناکام رہے یا اگلے دن لے جانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔
چوری میں کس کس چیز کو نشانہ بنایا گیا اور کیا کچھ لے جایا گیا، اس کی مکمل تفصیلات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں، تاہم مکان کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ چونکہ قیمتی اشیاء پہلے ہی منتقل کی جا چکی تھیں، اس لیے ممکنہ طور پر صرف معمولی سامان ہی چوری ہوا ہے۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بھٹکل مضافاتی پولیس اسٹیشن کے اہلکار موقع پر پہنچے اور جائے واردات کا معائنہ کیا۔ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہے اور گھر کے آس پاس لگے سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر شواہد کی بنیاد پر ملزمان تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔