لکھنؤ ، 10/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)ایک طرف کانگریس، سماجوادی پارٹی اور بی جے پی جیسی پارٹیاں اتر پردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخاب کے پیش نظر تیاریوں میں مصروف دکھائی دے رہی ہے، دوسری طرف بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) میں زبردست گھمسان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گزشتہ دنوں مایاوتی نے اپنے بھتیجے آکاش آنند کو پارٹی سے کنارہ کر دیا، اور اب آکاش کے سسر اشوک سدھارتھ نے سیاست کو پوری طرح خیرباد کہہ کر لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔
دراصل 9 ستمبر کو بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے آکاش کے سسر اشوک سدھارتھ کو ایک آفر دیا تھا، جس میں کہا تھا کہ اشوک سدھارتھ اگر سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لیں تبھی آکاش آنند کو بی ایس پی میں کوئی عہدہ مل سکتا ہے۔ اس شرط کے کچھ ہی گھنٹوں بعد اشوک سدھارتھ نے سیاست سے دوری اختیار کرنے کا اعلان کر اپنے داماد کے لیے بڑی قربانی دے دی۔ حالانکہ انھوں نے کہا ہے کہ ان کے استعفیٰ کو آکاش آنند کی واپسی سے جوڑ کر نہ دیکھا جائے۔
اشوک سدھارتھ نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان مایاوتی کو لکھے گئے ایک خط میں کیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک طویل پوسٹ بھی جاری کیا ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’بہن جی کے لیے ریٹائرمنٹ تو بہت چھوٹی چیز ہے، اگر مجھے کبھی اپنی جان بھی دینی پڑے تو فخر محسوس کروں گا۔‘‘ سوشل میڈیا پوسٹ میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’سیاسی زندگی اور سماجی زندگی سے ریٹائرمنٹ لے رہا ہوں۔ آکاش آنند کی واپسی کو میرے ریٹائرمنٹ سے نہ جوڑا جائے۔ میں نے بی ایس پی کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔ بہن جی کا حکم میرے لیے دنیا کی ہر چیز سے بڑا ہے۔ ان کے حکم کے آگے میرے رشتے، فیملی سب کچھ چھوٹا ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’گزشتہ 35 سال سے میں بی ایس پی اور عزت مآب کانشی رام و بابا صاحب امبیڈکر کے مشن کے لیے پوری طرح وقف ہوں۔ جو بھی ذمہ داری دی گئی، میں نے اپنی پوری طاقت سے نبھائی۔ آپ میری سیاسی اُستاد ہیں اور بڑی بہن ہیں۔ آپ کی وجہ سے ہی میں قانون ساز کونسل اور راجیہ سبھا تک پہنچا۔ آپ نے مجھے اپنی فیملی جیسا مانا، یہ آپ کا بہت بڑا کرم ہے، جس کا احسان میں کبھی ادا نہیں کر سکتا۔‘‘
اشوک سدھارتھ نے بتایا کہ ’’پارٹی کے کچھ لوگ مجھ پر الزام عائد کرتے ہیں کہ میں پارٹی پر قبضہ کرنا چاہتا ہوں اور آکاش آنند کو گمراہ کر رہا ہوں۔ اس میں ذرا بھی سچائی نہیں ہے۔ یہ میرے سیاسی مخالفین کی سازش ہے، جو خود پارٹی مخالف کام کر رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے مایاوتی کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’سچائی ایک دن آپ کے سامنے ضرور آئے گی۔ التجا ہے کہ میرے ریٹائرمنٹ کو آکاش کی واپسی سے نہ جوڑا جائے۔ آکاش پہلے آپ کے بھتیجے ہیں اور آنند بھائی صاحب کے بیٹے ہیں۔ ان میں آپ کا خون ہے۔ انھوں نے 2 دہائی آپ کی دیکھ ریکھ میں گزارے ہیں۔ انھیں ذمہ داری دینا یا نہ دینا یہ صرف آپ کا فیصلہ ہے۔‘‘
مایاوتی کے نام تحریر کردہ اپنے خط میں اشوک سدھارتھ نے انھیں قربانی و رحم کا مجسمہ قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’سماج کے مفاد کے لیے آپ نے وزیر اعلیٰ کی کرسی اور راجیہ سبھا کا عہدہ بھی چھوڑ دیا۔ آپ ہماری راہنما اور رول ماڈل ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ میرے سیاسی و سماجی زندگی میں رہنے سے بہوجن مشن کو نقصان پہنچ رہا ہے تو میں ابھی سیاسی و سماجی زندگی سے سبکدوش ہو رہا ہوں۔‘‘ اشوک کے ذریعہ لیے گئے اس فیصلہ پر مایاوتی کا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اشوک سدھارتھ کے ذریعہ سیاست سے سبکدوش ہونے کا اعلان دیر سے اٹھایا گیا درست قدم ہے۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اگر یہ فیصلہ وہ بہت پہلے لیتے تو بی ایس پی اور ان کے داماد آکاش آنند کو بھی لگاتار مشکل حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔