چنئی ، 5/جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی)اَنّا یونیورسٹی میں 23 دسمبر کی رات تقریباً 8 بجے ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد یہ معاملہ سیاسی طور پر شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد تمل ناڈو کی اپوزیشن جماعتوں نے ’ڈی ایم کے‘ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس دوران ڈی ایم کے کی رکن پارلیمنٹ کنی موجھی کروناندھی کا ایک بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف کسی بھی طرح کا تشدد ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ذمہ دار سماج کے طور پر ہمیں ایسے مقام پر پہنچنا چاہیے جہاں خواتین کو مکمل تحفظ حاصل ہو اور ان کے خلاف تشدد کا کوئی تصور نہ ہو۔ ساتھ ہی کنی موجھی نے اس معاملے پر بی جے پی اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں پر بھی سخت حملہ کیا ہے۔
ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’’یہ ایسی چیز ہے جس پر ہمیں شرم آنی چاہیے۔ خواتین کے خلاف کسی بھی طرح کے تشدد کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں بحیثیت سماج اس مقام پر پہنچنا چاہیے جہاں خواتین کے ساتھ کوئی تشدد نہ ہو، لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا ایسے میں کیا اقدامات اٹھائے جانے چاہیے۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ متاثرہ کو انصاف ملے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ معاملے کی تحقیقات کی جائے۔ عدالتی کارروائی اس طرح سے عمل میں لائی جائے کہ متاثرہ کے لیے صورتحال مثبت ہو۔
ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ کنی موجھی کروناندھی نے بی جے پی اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں بی جے پی اور اپوزیشن سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ جب یہ ہوا تو وہ کہاں تھے؟ منی پور میں ابھی بھی حالات ٹھیک نہیں ہیں، وہ سب کہاں ہیں؟ انہیں وہاں کے خواتین کی فکر کیوں نہیں ہے؟‘‘ واضح ہو کہ گزشتہ ہفتہ بی جے پی نے اَنّا یونیورسٹی کے جنسی ہراسانی معاملے میں ڈی ایم کے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ مظاہرے کے دوران تمل ناڈو بی جے پی صدر کے انّاملائی نے اپنے گھر کے سامنے خود کو کوڑے مارے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ اَنّا یونیورسٹی کے جنسی ہراسانی معاملے میں چنئی پولیس نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ’’جنسی ہراسانی معاملے کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘‘