کاروار ،6 / مئی (ایس او نیوز) انکولہ تعلقہ کے شیرور میں گزشتہ سال برسات کے موسم میں جو پہاڑ کھسکنے کا جو بھیانک حادثہ پیش آیا تھا اور اس کے نتیجے میں پہاڑی ملبہ گنگاولی ندی میں جمع ہو گیا تھا اسے ہٹانے کے لئے محکمہ بندرگاہ کی طرف سے 4.30 کروڑ روپے لاگت کا ٹینڈر طلب کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔

گنگاولی ندی میں بہت بڑی مقدار میں ملبہ پڑے رہنے کی وجہ سے برسات کے دنوں میں اس علاقے میں بڑا سیلاب آنے اور بڑے پیمانے پر جان و مال کا نقصان ہونے کا خدشہ بنا ہوا تھا ۔ ضلع ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا نے ندی سے ملبہ ہٹانے کے لئے ضروری اقدام کرنے کے لئے محکمہ بندرگاہ کو مراسلہ بھیجا تھا ۔ معلوم ہوا ہے کہ اس ضمن میں کارروائی ہو رہی ہے اور جلد ہی 4.30 کروڑ روپوں کے خرچ پر ملبہ ہٹانے کے لئے ٹینڈر طلب کیا جائے گا ۔
ضلع ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا نے بتایا کہ شیرور کے پاس گنگاولی ندی سے ملبہ ہٹانے کا کام جلد ہی شروع کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ اسٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ میں طے شدہ تجویز کے مطابق نیشنل ہائی وے پر چٹانیں کھکسنے کے واقعات کو روکنے کے لئے ایک مہینے کے اندر عبوری طور پر اقدامات کیے جائیں گے ۔ کیونکہ برسات سے پہلے اس مسئلے کا مستقل حل نکالنا ممکن نہیں ہے ۔ ضلع کے 439 مقامات پر زمین یا چٹان کھسکنے کے معاملوں کو روکنے کے لئے 100 روپے طلب کیے گئے ہیں ۔ ریوینیو منسٹر نے جلد ہی یہ فنڈ فراہم کرنے کا تیقن دیا ہے ۔ زمین کھسکنے کے معاملات روکنے کے لئے کس قسم کے اقدامات کرنے ہونگے اس کے بارے میں ابھی ماہرین کی طرف سے رپورٹ نہیں ملی ہے ۔
محکمہ بندرگاہ کے کیپٹن سوامی نے بتایا کہ شیرور میں پہاڑی کھسکنے کے بعد گوا سے جس قسم کا بھاری بارج لایا گیا تھا اس قسم کی بڑی اور بھاری مشینیں اس وقت ندی سے مٹی ہٹانے کے لئے درکار ہیں ۔ اس کام کے لئے خرچ کا تخمینہ 4.30 کروڑ روپے لگایا گیا ہے ۔ اس کے لئے ٹینڈر طلب کیا جائے گا ۔