لکھنؤ ، 30/دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)سماج وادی پارٹی کے صدر اور اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے ایک بار پھر ای وی ایم پر سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ تبصرہ انہوں نے جرمنی کے فرینکفرٹ سے رکن پارلیمنٹ راہل کمار کمبوج سے ملاقات کے بعد کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان تفصیلی بات چیت ہوئی، جس کے دوران راہل کمبوج نے اکھلیش یادو کے ساتھ اترپردیش کی ترقی کے لیے کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ملاقات کے بعد راہل کمبوج نے کہا کہ وہ اکھلیش یادو سے دوستانہ تعلقات کے تحت ملنے آئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک موقع کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
راہل کمبوج سے ملاقات کرنے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے ای وی ایم سے انتخاب کو لے کر ایک بار پھر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی جرمنی میں بیلٹ پیپر کے ذریعہ ووٹنگ ہوتی ہے لیکن ہندوستان میں ای وی ایم کا کھیل جاری ہے۔ وہیں راہل کمار کمبوج نے ای وی ایم کے حوالے سے کہا کہ ہمارے جرمنی میں آج بھی ووٹنگ بیلٹ پیپر سے ہوتی ہے۔ ساتھ ہی راہل نے واضح کر دیا کہ جرمنی میں ہونے والے تمام انتخاب خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے بیلٹ پیپر سے ہی ہوتے ہیں۔ اگر کبھی ووٹوں کی گنتی دوبارہ کی جاتی ہے تو بھی ایک ووٹ کا فرق نہیں آتا ہے۔
شیوپال یادو نے اس دوران کہا کہ ہمارے درمیان جرمنی سے ہمارے مہمان آئے ہیں میں ان کا استقبال کرتا ہوں۔ 2025 میں ہم ملک اور ریاست کے مفاد کے لیے نئی پیش قدمی کریں گے۔ اترپردیش میں 2027 میں سماج وادی حکومت بنانے کے مشن ہے۔ انہوں نے آگے کہا کہ اکھلیش یادو ایک بار پھر ریاست کے وزیر اعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہوں جس سے یہاں کے غریبوں اور کسانوں کو موجودہ حکومت کی استحصال سے نجات ملے۔ ساتھ ہی انہوں نے جرمنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی سپریم کورٹ نے ای وی ایم کے استعمال کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ہمارے یہاں ہارنے والے اور جیتنے والے امیدواروں کو ای وی ایم پر بھروسہ ہی نہیں ہو پاتا ہے۔