نئی دہلی ، 30/دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)سال 2024 اپنے اختتام کی جانب ہے، اور یہ سال کئی لحاظ سے یادگار رہا۔ خاص طور پر ہندوستان کی سب سے بڑی عدالت، سپریم کورٹ، کے چند اہم فیصلے جنہوں نے قانونی اور آئینی تاریخ میں مثال قائم کی۔ سپریم کورٹ، جو آئین کے آرٹیکل 124 کے تحت 28 جنوری 1950 کو قائم کی گئی، ملک کے قوانین کی تشریح اور ان پر فیصلہ سنانے کا اعلیٰ اختیار رکھتی ہے۔ عدالت کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ ہائی کورٹس اور دیگر عدالتوں کے فیصلوں پر نظرثانی کرے۔ ساتھ ہی، سپریم کورٹ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ذیل میں 2024 کے دوران سپریم کورٹ کے چند نمایاں فیصلوں کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے۔
1. بلقیس بانو کے مجرمین کی سزا معافی منسوخ کر دی گئی:رواں سال جنوری میں ہی سپریم کورٹ نے بلقیس بانو معاملے میں حکومت کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے مجرمین کی سزا معافی منسوخ کر دی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کر دیا کہ جس ریاست میں مجرمین کے خلاف مقدمہ چلائی گئی وہی ریاست مجرمین کی سزا معافی کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں آگے کہا کہ مجرمین کی سزا معافی کا فیصلہ گجرات حکومت نہیں کر سکتی بلکہ مہاراشٹر حکومت اس پر فیصلہ کرے گی۔ گجرات حکومت نے معافی پالیسی کے تحت 2022 میں بقلیس بانو سے اجتماعی عصمت دری اور پریوار کے 7 افراد کے قاتلوں کے مجرمین کی سزا معاف کر دی تھی اور انہیں جیل سے رہا کر دیا تھا۔
2. چائلڈ پورنوگرافی جرم:سپریم کورٹ نے چائلڈ پورنوگرافی کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ چائلڈ پورنوگرافی کو ڈاؤن لوڈ کرنا، فون میں رکھنا اور دیکھنا پاسکو اور آئی ٹی ایکٹ کے تحت جرم ہے۔ مدراس ہائی کورٹ نے اس معاملے میں پہلے یہ فیصلہ سنایا تھا کہ صرف چائلڈ پورنوگرافی داؤن لوڈ کرنا اور دیکھنا پاکسو ایکٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت جرم نہیں ہے۔ اس فیصلے کو سپریم کورٹ نے پلٹ دیا۔ چیف جسٹس (سی جے آئی) ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس جے بی پارڈی والا اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے پارلیمنٹ کو پاکسو ایکٹ میں ترمیم کرنے کے لیے قانون لانے کا مشورہ دیا۔ جس میں ’چائلڈ پورنوگرافی‘ لفظ کو ’بچوں کا جنسی استحصال اور بدسلوکی کرنے والا مواد‘ سے بدل دیا جائے۔
3. بلڈوزر جسٹس کو ناقابل قبول قرار دیا:سپریم کورٹ نے بلڈوزر کے ذریعہ انصاف کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ شہریوں کی املاک کو تباہ کرنے کی دھمکی دے کر ان کی آواز کو نہیں دبایا جا سکتا۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے کہا کہ ’بلڈوزر جسٹس‘ قانون کی حکمرانی کے تحت ناقابل قبول ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ بلڈوزر جسٹس نہ صرف قانون کی حکمرانی کے خلاف ہے بلکہ یہ بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔ حکومت کو کسی بھی شخص کی املاک کو منہدم کرنے سے پہلے قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیے اور انہیں سماعت کا موقع دینا چاہیے۔ اگر بلڈوزر جسٹس کی اجازت دی جاتی ہے تو املاک کے حق کی آئینی شناخت ختم ہو جائے گی۔ واضح ہو کہ یہ فیصلہ 2019 میں اترپردیش کے مہاراج گنج ضلع میں ایک صحافی کے گھر کو غیر قانونی طور سے منہدم کرنے سے متعلق ایک معاملہ میں سنایا گیا تھا۔
4. یوپی مدرسہ ایکٹ کو آئینی قرار دیا گیا:یوپی مدرسہ ایکٹ پر الہ باد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے پلٹ دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ مدرسہ ایکٹ آئین کی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ مدرسہ ایکٹ کسی بھی طرح کے سیکولرازم کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے اس ایکٹ کو صحیح طریقے سے سمجھے بغیر منسوخ کر دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ مدرسہ ایکٹ تسلیم شدہ مدارس میں تعلیم کے معیارات کو منظم کرتا ہے۔ واضح ہو کہ اترپردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ 2004 کو الہ باد ہائی کورٹ نے ’غیر آئینی‘ قرار دیا تھا۔
5. دفعہ 6 اے کے آئینی جواز کو برقرار رکھا گیا:سپریم کورٹ نے آسام معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے 1985 میں آئین کے ذریعہ شامل کیے گئے شہریت ایکٹ کے سیکشن 6اے کی آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے 5 ججوں کی آئینی بنچ نے شہریت ایکٹ کے سیکشن 6اے کی آئینی جواز کو برقرار رکھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ آسام معاہدہ غیر قانونی نقل مکانی کے مسئلے کا سیاسی حل ہے۔ آسام میں داخلے اور شہریت دینے کے لیے 25 مارچ 1971 تک کی وقت کی حد صحیح ہے۔ شہریت ایکٹ کے سیکشن 6اے پر کورٹ نے کہا کہ کسی ریاست میں مختلف نسلی گروہوں کی موجودگی کا مطلب آرٹیکل 29 (1) کی خلاف ورزی کبھی نہیں ہے۔