ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دہلی فسادات 2020: دو مسلم نوجوان الزامات سے بری، اہل خانہ نے جمعیۃ علماء ہند کا شکریہ ادا کیا

دہلی فسادات 2020: دو مسلم نوجوان الزامات سے بری، اہل خانہ نے جمعیۃ علماء ہند کا شکریہ ادا کیا

Sun, 22 Dec 2024 10:34:40    S.O. News Service

نئی دہلی ، 22/دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)دہلی کے کڑکڑڈوما کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج نے آج دہلی فسادات 2020 کے ایک مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے فیروز خان عرف پپو اور محمد انور، دونوں کا تعلق پرانا مصطفیٰ آباد سے ہے، کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔ عدالت نے شواہد کے فقدان کو بنیاد بناتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا اور پولیس کی کارکردگی پر سخت تنقید کی۔ جج نے کہا کہ پولیس کو پختہ اور غیر معتبر شواہد کے درمیان فرق سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے معاملات میں انصاف کا خون نہ ہو۔

یہ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 130/2020 کے نام سے تھانہ دیال پور میں درج کیا گیا تھا۔ ملزمان پر دفعہ 148، 380، 427، 451 تعزیرات ہند، دفعہ 149 کے ساتھ؛ دفعہ 436 تعزیرات ہند، دفعہ 511 اور دفعہ 188 تعزیرات ہند کے تحت الزام تھا کہ 24 فروری 2020 کو شمال مشرقی دہلی کے علاقہ مہالکشمی انکلیو میں ایک ہجوم نے توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور آگ زنی کی تھی، جس میں ان ملزمان کو ملوث قرار دیا گیا تھا۔

تاہم عدالت نے گواہوں کے بیانات میں تضادات، شناخت میں ابہام اور ناقابل اعتماد شواہد کی بنیاد پر فیصلہ دیا کہ الزامات ثابت نہیں ہو سکے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اس معاملے میں اس بات کا بھی ثبوت نہیں پیش کیا جا سکا کہ مذکورہ گھر پر حملہ بھی کیا گیا تھا۔

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی سرپرستی میں تجربہ کار وکلاء کی ٹیم بالخصوص ایڈووکیٹ عبدالغفار نے قانونی امداد فراہم کی، جنہوں نے عدالت میں مضبوط دفاع کیا اور استغاثہ کے دعووں میں موجود خامیوں کو نمایاں کیا۔ اس موقع پر فیروز خان عرف پپو کے والد منان خان نے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی، ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی اور قانونی معاملات کے ذمہ دار مولانا نیاز احمد فاروقی کا شکریہ ادا کیا۔ واضح ہو کہ جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے ہنوز 100 سے زائد افراد باعزت بری ہو چکے ہیں، جب کہ 586 مقدمات میں پہلے مرحلے میں ضمانت حاصل کی گئی تھی۔
 


Share: