بنگلورو،25؍فروری(ایس او نیوز) سابق وزیراعظم اور جنتادل (ایس) کے قومی صدر ایچ ڈی دیوے گوڈا نے آج وزیراعلیٰ سدرامیا سے مطالبہ کیا ہے کہ یگجی ڈیم سے ہاسن کو پانی فوراً مہیا کرایا جائے، اگر ایسا نہیں کیا گیاتو مجبوراً انہیں وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے روبرو احتجاجی دھرنا دینا پڑے گا۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے دیوے گوڈا نے کہا کہ ہیماوتی سے کرشنا راجہ ساگر کو پانی بہانے کا سلسلہ فوراً معطل کیا جائے۔ ایسے وقت میں جبکہ ہاسن ضلع میں پانی کی قلت ہے ، اس کی پرواہ کئے بغیر ہیماوتی کے ذریعہ کے آر ایس کو پانی بہانا اور وہاں سے تملناڈو کو پانی مہیا کرانا غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ سدرامیا جب حال ہی میں ارسیکیرہ آئے تھے تو انہوں نے کافی جوشیلی تقریر کی ، لیکن عمل کے محاذ پر ان میں وہ جوش نظر نہیں آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو اپنے قول وفعل میں تضاد ظاہر نہیں ہونے دینا چاہئے۔دیوے گوڈا نے کہاکہ ہاسن ضلع بھر میں پانی کی سربراہی کیلئے بیس کیوسک پانی درکار ہے۔ وزیراعلیٰ سدرامیا چاہیں تو یہ پانی فوراً مہیا کراسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بیس کیوسک پانی مہیا کرانے کیلئے سدرامیا سے بھیک مانگنے کی نوبت آچکی ہے، دیوے گوڈا نے کہاکہ یگچی ڈیم انہوں نے تعمیر کروایا ہے اور وہ یہ یقینی بنائیں گے کہ جب تک وہ زندہ ہیں ہاسن کے عوام کو پانی کی کوئی تکلیف نہ ہونے پائے۔ دیوے گوڈا نے کہاکہ اب ان کے صبر کا باندھ ٹوٹتا جارہا ہے، کیونکہ ضلع کی ڈپٹی کمشنر چائترانے حال ہی میں ان سے کہاکہ ہیماوتی سے ہاسن کو پانی فراہم کرنا ناممکن ہے۔ دیوے گوڈا نے کہاکہ پہلے ہی سرکاری افسران کو یہ بات بتانا چاہئے کہ پروٹوکول کے حساب سے ایک سابق وزیراعظم سے کس طرح مخاطب ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سدرامیا اگر چاہیں تو ہاسن ضلع میں پانی کی صورتحال کا بذات خود جائزہ لے سکتے ہیں یا پھر سرکاری افسران کی ایک ٹیم ترتیب دے کر اسے روانہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سدرامیا سے انہیں توقع ہے کہ وہ ان کی بات کا لحاظ رکھیں گے اور ضلع میں پینے کے پانی کی فراہمی پر توجہ دیں گے۔ دیوے گوڈا نے کہاکہ حکومت نے پہلے ہی ریاست کے کسانوں کی زندگی برباد کررکھی ہے۔اس موقع پر دیوے گوڈا نے آنے والے دنوں میں جنتادل (ایس) کو اور مضبوط کرنے کیلئے جدوجہد کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ پارٹی کے ایسے لیڈر جو دیگر پارٹیوں میں گئے بغیر غیر جانبدار رہ گئے ان کو پارٹی کے اہم عہدے سونپ کر ریاست میں پارٹی کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ خاص طور پر سابق وزراء ایم سی نانیا اور پی جی آر سندھیا کو پارٹی میں لاکر ریاست میں پارٹی کو مضبوط کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ آنے والے اسمبلی انتخابات کیلئے جنتادل (ایس) اپنی تیاریوں کا آغاز15؍ مارچ سے کرے گی، اس روز شہر کے پیالیس گراؤنڈ میں ایک بہت بڑا جلسۂ عام منعقد کیا جائے گا، اسی دن شہر کے جک رائن کیرے میں تعمیر شدہ جنتادل (ایس) کے نئے دفتر جئے پرکاش بھون کا افتتاح سابق نائب وزیراعظم ایل کے اڈوانی کے ہاتھوں عمل میں آئے گا، جس میں اس وقت کی جے پی تحریک کے اہم قائدین بشمول نتیش کمار ، لالو پرساد یادو، ملائم سنگھ وغیرہ کو مدعو کیا جائے گا۔ دیوے گوڈا نے کہاکہ پارٹی سے معطل شدہ سات اراکین اسمبلی کے اسمبلی حلقوں میں متبادل امیدواروں کو تلاش کرنے کا کام پارنی نے شروع کردیا ہے۔ منڈیا میں کانگریس کے سابق رکن اسمبلی سریش گوڈا کو جنتادل(ایس) میں لانے کی تیاری کی جارہی ہے تاکہ چلورایا سوامی کی جگہ پر انہیں ٹکٹ دیا جاسکے۔ اسی طرح چامراج پیٹ حلقہ میں ضمیر احمد خان کے مقابل اسی حلقہ سے سابقہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس امیدوار رہ چکے جی اے باوا کو جنتادل (ایس) سے اتارنے پر بھی غور کیا جارہاہے۔