منگلورو 24 / جون (ایس او نیوز) سورتکل میں پیش آئے المناک واقعہ میں ایک 17 سالہ حاملہ لڑکی نے 23 اپریل کی شام تقریباً 4 بجے اپنی رہائش گاہ پر پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔
اس لڑکی کے والدین کی شکایت پر پولیس نے، خود کشی اور آبروریزی کے ضمن میں جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ (POCSO) کے تحت ایک نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، جس کے بارے میں متوفی لڑکی نے اپنے ڈیتھ نوٹ میں بتایا ہے کہ وہ دائیں بازو کی ہندوتوا وادی تنظیم کا کارکن ہے۔
متوفی نابالغ لڑکی کی شناخت کو خفیہ رکھا گیا ہے اور اسے نشا (متبادل نام) کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ ملزم کی شناخت انیش پجاری کے طور پر کی گئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق نشا نے انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے اپنے پیچھے ایک خودکشی نوٹ چھوڑا ہے جس میں اپنے والدین کو مخاطب کیا ہے اور گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے "غلطی" کی ہے اور ملزم "خوش ہے ۔" اپنے نوٹ میں اس نے ایک تہلکہ خیز الزام یہ بھی لگایا ہے کہ اگرچہ ملزم ہندو تنظیموں سے وابستہ تھا، لیکن اس گروہ کے کارکنان اس کی تکلیف میں اس کی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھے۔
فوت شدہ لڑکی کے والدین نے اس واقعہ کی شکایت درج کرانے کے لیے سورتکل پولیس اسٹیشن سے رجوع کیا ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کی نابالغ بیٹی حاملہ تھی اور اس کی موت کا ذمہ دار انیش ہے۔ اپنی شکایت میں والدین نے کہا کہ نشا نے انہیں یہ راز بتایا تھا کہ ملزم نے شادی کا جھوٹا یقین دلانے کے اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے۔
والدین کی شکایت کی بنیاد پر پولس نے انیش پجاری کے خلاف عصمت دری، POCSO اور خودکشی کے لیے اکسانے کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔
پولیس نے پوسٹ مارٹم کی کارروائی مکمل کر لی ہے۔ طبی افسران نے ڈی این اے پروفائلنگ کے لیے جنین کو حاصل کر لیا ہے تا کہ کیس کے ضمن میں شواہد واضح اور مضبوط ہوں۔
ملزم کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ فی الحال مفرور ہے اور اس کا سراغ لگانے اور اس کی گرفتاری کو یقینی بنانے کے لیے پولیس ٹیم تشکیل دی گئی ہے ۔معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔