بنگلورو۔11/اگست(عبدالحلیم منصور/ایس او نیوز) ریاست کے مستقل پسماندہ طبقات کمیشن کی طرف سے ریاست کی آبادی کے ذات پات پر مشتمل معاشی وسماجی سروے کی رپورٹ 20 اگست کو حکومت کے سپرد کردی جائے گی۔ ریاست بھر میں کئے گئے سروے کی رپورٹ تیار ہے اور مرحلہ طباعت میں ہے۔ 20اگست کو یہ رپورٹ حاصل کرنے کیلئے وزیراعلیٰ سدرامیا سے گذارش کی گئی ہے۔ یہ بات آج ریاستی وزیر برائے سماجی بہود ایچ آنجنیا نے کہی۔اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کا یہ استدلال بے بنیاد ہے کہ ریاستی حکومت کو ذات پات کی بنیاد پر سروے کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ لوگوں کی معاشی اور تعلیمی صورتحال سے واقفیت کے بغیر کونسی حکومت ان کی ترقی کیلئے منصوبہ سازی کرسکتی ہے؟۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق یہ سروے کیاگیا ہے۔ اس سروے کے اعداد وشمار کسی کی پرواہ کئے بغیر 20 اگست کو منظر عام پر لائے جائیں گے۔ حکومت کو رپورٹ ملنے کے بعد ریاست کے کمزور طبقات کی فلاح وبہبود کیلئے واضح فیصلے لئے جائیں گے۔ وزیر موصوف نے کہاکہ ریاست کی ہر ہوبلی میں ایک اقامتی اسکول کے قیام کا منصوبہ ہے، جس کیلئے 145اقامتی اسکولوں کے قیام کی منظوری دی جاچکی ہے۔ اگلے تعلیمی سال سے یہ اسکول کام کرنے لگیں گے۔انہوں نے کہا کہ نئے اسکولوں کیلئے فی عمارت دس ایکڑ زمین مہیا کرائی جائے گی۔تمام سہولیات سے لیس ان عمارتوں میں طلبا کے قیام کے انتظامات کئے جائیں گے۔ان اسکولوں کیلئے درکار تین ہزار افراد پر مشتمل تدریسی اور غیر تدریسی عملے کے تقرر کیلئے بھی قدم اٹھائے گئے ہیں۔ وزیر موصوف نے بتایاکہ ان تمام اسکولوں کی تعمیر کیلئے کم از کم 2000کروڑ روپیوں کی رقم درکار ہے۔ ریاست بھر میں فی الوقت 505 اقامتی اسکول کام کررہے ہیں۔ ان اسکولوں میں عملے کی کمی کو دور کرنے کیلئے بھی حکومت ضروری قدم اٹھارہی ہے۔