کاروار 25/اگست (ایس او نیوز) اسکول کے اندر ایک خاتون ٹیچر اور اس کے شوہر کی طرف سے آنگن واڑی کارکنوں کے ساتھ بدکلامی اور حملہ کرنے کے بعد طلباء کو اسکول میں ہی چھوڑ کرٹیچر کے چلے جانے سے بچوں کے والدین اور گاوں کے لوگوں میں برہمی اور ناراضی پیدا ہوگئی ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق یہ واقعہ کاروار کے بائیرا گاوں کے برگی ہائیر پرائمری اسکول کا ہے۔گاوں والوں نے جب دیکھا کہ اسکول کے بچے دن بھر کلاس روم سے باہر میدان میں کھیل رہے ہیں اور پاس کی سڑک پر یوں ہی گھوم پھر رہے تو انہوں نے اسکو ل میں جاکر پوچھا تو پتہ چلا کہ اسکول کی ٹیچر اپنے گھر چلی گئی ہے اور کلاس میں بچوں کی نگرانی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔زیادہ تحقیق کرنے پر ایک طالب علم کی زبانی پتہ چلا کہ آنگن واڑی کی ٹیچر کے ساتھ جھگڑنے کے بعد ہیڈمسٹریس اپنے گھر واپس چلی گئی ہے۔
دراصل اسکول کی چھت درست کرنے کے مسئلے پر ایس ڈی ایم سی کے صدر سندیپ اچاری اور اسکول کی ہیڈمسٹریس بھارتی رانے کے بیچ تکرار شروع ہوئی۔ کچھ دیر میں ہیڈمسٹریس کا شوہر بھی اسکول پہنچ گیا اور دونوں میاں بیوی سندیپ کے ساتھ اسکول کے ورانڈے میں ہی جھگڑنے لگے۔ اس چیخ و پکار کی وجہ سے دوسری کلاسوں میں پڑھانے والے ٹیچروں کو تکلیف ہونے لگی تو وہاں پر موجودآنگن واڑی کارکن موہینی نے اسکول میں اس طرح کا ہنگامہ کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔ اس پر میاں بیوی دونوں نے اس آنگن واڑی کارکن کے ساتھ نہ صرف بدکلامی کی بلکہ اس پر حملہ بھی کردیا۔ اورپھر طلباء کو یونہی چھوڑکروہاں سے نکل گئے۔اسکول ہیڈ مسٹریس کے اس نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ رویے پر طلباء کے والدین اور گاوں کے لوگوں نے اپنی برہمی اور ناراضگی ظاہر کی ہے۔
ایس ڈی ایم سی کے صدر کا کہنا ہے کہ مذکورہ ٹیچر اسکول کے بجائے گھر اور باہر کے کاموں میں ہمیشہ ملوث رہتی ہے اور طلباء کی تعلیم سے لا پروائی کا مظاہرہ کرتی ہے۔اس لئے مطالبہ کیا ہے کہ اس ٹیچرکے خلاف سخت کارروائی کی جائے یا پھر اسے کسی اوراسکول میں ٹرانسفر کیا جائے۔