ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پوتن کے دکھ اور حلب کے مظلوموں میں گہری مماثلت،صدر پوتن کے ایک بھائی بھی جنگ کے نتیجے میں بچپن میں فوت ہوئے

پوتن کے دکھ اور حلب کے مظلوموں میں گہری مماثلت،صدر پوتن کے ایک بھائی بھی جنگ کے نتیجے میں بچپن میں فوت ہوئے

Fri, 14 Oct 2016 16:55:14    S.O. News Service

دمشق،14اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)شام کے شمالی شہر حلب میں برپا قیامت صغریٰ میں جہاں بشارالاسد کی فوج اور اس کے حامی ملیشیاؤں کا ہاتھ ہے وہیں اس جنگ اور خون خرابے میں روس کو بھی قصور وار قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ روسی جنگی طیارے بھی دن رات حلب کے درو بام پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے بموں سے تباہی پھیلا رہے ہیں۔روسی بمباری سے اس وقت حلب اور اس کے باشندے بالخصوص بچے جس مصیبت سے دوچار ہیں بالکل ایسے ہی آج سے 70برس قبل روسی صدر ولادی میر پوتن کا آبائی شہر لیننگراد دوسری عالمی جنگ کے دوران تباہی اور بربادی کا سامنا کررہا تھا۔ اس تباہی اور بربادی کے نتیجے میں پوتن نے اپنا ایک بھائی بھی کھود دیا تھا۔ جس کرب سے اس وقت اہل حلب گذر رہے ہیں۔ ستر برس قبل خود پوتن کا خاندان ایسے ہی حالات کا سامنا کررہا تھا۔آج سے 70برس پیشتر جب پوتن کا بھائی شدید بیماری اور بھوک کے باعث ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کے منہ میں جا رہا تھا تب پوتن ابھی بہت چھوٹی عمر کا تھا تھا۔ اس وقت بیمار اور نحیف ونزار بیٹے کی حالت زار پر اس کی ماں دھاڑی مار مار کر روتی تھی۔ آج ولادی میر پوتن کے حکم سے طیارے حلب کی آبادی پر بمباری کرتے ہیں اور یہاں کے بچے زخموں اور بیماریوں کے ساتھ بھوک اور ننگ کا اسی طرح مقابلہ کررہے ہیں جس طرح کسی دور میں پوتن کے خاندان نے کیا تھا۔

برطانوی اخبار Mirrorنے 70برس قبل پوتن کے آبائی شہر لیننگراد کی حالت پر روشنی ڈالی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب دوسری عالمی جنگ نے سوویت یونین کے دروازے پر دستک دی تو پوتن کے آبائی شہر لیننگراد میں 8لاکھ لوگ رہائش پذیر تھے۔ یہ لوگ کئی مہینوں تک محصور رہے اور یہاں پر محصور ہونے والے بچے، عورتیں اور مرد بمباری، بیماریوں اور بھوک سے ہلاک ہوتے رہے۔سنہ1941ء سے 1944ء تک لیننگراد اتحادیوں کے محاصرے میں رہا اور کسی قسم کا امدادی سامان محصورین تک نہیں پہنچنے دیا جا رہا تھا۔ آج حلب اسی طرح کی کیفیت سے گذر رہا ہے جہاں چار سو محاصرہ اور محصورین بچوں تک خوراک اور ادویہ تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔پوتن کا بھائی بھی غذائی قلت اور بیماریوں کے دوران علاج کی سہولت سے محرومی کا شکار ہوا۔ آخر کار تشنج کی بیماری نے اس کی جان لے لی تھی۔پوتن کی والدہ کہتی ہیں کہ دوسری عالم جنگ کے دوران اس کے شوہر کے چھ میں سے پانچ بھائی جنگ کا ایندھن بنے۔ خود پوتن کی والدہ کے اپنے کئی قریبی رشتہ دار بھی جنگ، بھوک اور بیماریوں کے باعث ہلاک ہوگئے تھے۔ولادی میر پوتن خود بتاتے ہین کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران ان کے ملک میں بدترین قتل عام کیا گیا۔ اپنی ایک خفیہ دستاویز میں پوتن کا کہنا ہے کہ اس کے بھائی کو بیسکار یفکسوی نامی ایک قبرستان میں پانچ لاکھ دوسرے مقتولین کے ہمراہ اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا تھا۔


Share: