لندن ،29؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ایک عوامی جائزے کے نتائج کے مطابق برطانوی عوام کی اکثریت شہزادہ ولیم کو انگلستان کا اگلا بادشاہ دیکھنا چاہتی ہے۔شاہی خاندان کے بارے میں عوامی رائے عامہ جاننے کے لیے اوپینین کی طرف سے منعقدہ جائزے سے پتا چلتا ہے کہ 54فیصد برطانوی عوام نے ملکہ برطانیہ کوئین الزبیتھ کے جانشین شہزادہ چارلس کے بجائے ان کے ولی عہد بیٹے شہزادہ ولیم کو سربراہ مملکت کی حیثیت سے پسند کیا ہے۔حالیہ جائزے کے نتائج سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ برطانیہ کی آدھی سے زیادہ عوام اس بات کے حق میں ہے کہ شہزادہ ولیم کو براہ راست بادشاہت ملنی چاہیئے اور ملکہ برطانیہ کے دنیا سے گزر جانے کے بعد شہزادے چارلس کی جگہ ان کے بیٹے ولیم کو سلطنت برطانیہ کے تخت پر بیٹھانا چاہئے۔رپورٹ کے مطابق 34سالہ شہزادہ ولیم خواتین میں زیادہ مقبول ہے اور 60فیصد سے زیادہ خواتین شہزادہ ولیم کو برطانیہ کا اگلا بادشاہ دیکھنا چاہتی ہیں۔جب کہ 47فیصد مرد شہزادہ ولیم کو انگلستان کا اگلا بادشاہ دیکھنے کے حق میں ہیں۔25فیصد برطانوی عوام جانشینی کے قانون کے تحت شہزادہ چارلس کو برطانیہ کا اگلا بادشاہ دیکھنا چاہتے ہیں۔سروے میں پوچھا گیا تھا کہ برطانیہ میں شہنشاہیت کو جاری رکھنا چاہئے؟۔اس کے جواب میں دو تہائی عوام نے شہنشاہیت، ملکہ برطانیہ اور ان کے جانشینوں کے تحفظ کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔
سروے کے ترجمان جیمز کراوچ نے ڈیلی میل کو بتایا کہ ہم نے پچھلے سال کے نتائج میں دیکھا تھا کہ ہم میں سے اکثریت نے شہنشاہیت کی طرف اپنی اٹوٹ وفاداری دکھائی تھی اور اس برس کے نتائج ملک کی سیاسی عدم استحکام کیتناظر می زیادہ حیران کن نہیں ہیں جب زیادہ سے زیادہ برطانوی عوام نے شاہی ادارے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ہو سکتا ہیکہ مستقبل میں شہنشاہیت کیحوالے سے برطانیہ میں سنجیدہ بحث چھڑ جائے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ملکہ عالیہ اور ان کیخاندان آنے والے سالوں میں آرام سے حکومت کرتے رہیں گے۔سروے سے انکشاف ہوا کہ 66فیصد عوام سمجھتے ہیں کہ شہنشاہیت کا نظام برطانیہ کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہے۔اسی طرح 72فیصد عوام کا خیال ہے کہ شہنشاہیت کے نظام کی وجہ سے بیرون ملک میں برطانیہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔شہزادہ ولیم رائل ائیر فورس میں ریسکیو پائلٹ کی حیثیت سے ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حالیہ برسوں میں انھوں نے سرکاری فرائض بھی سنبھال لیے ہیں۔اس کے علاوہ وہ بیرون ملک تقریبات میں ملکہ برطانیہ کی نمائندگی کے فرائض بھی نبھاتے ہیں۔برطانوی تاریخ میں اگرچہ شہزادی ڈیانا کو عوام میں سب سے مقبول شہزادی قرار دیا جاتا ہے لیکن ان کے بیٹے کو تاریخ کا ایک ایسا شہزادہ قرار دیا گیا ہے جو برطانوی عوام کا ہر دلعزیز شہزادہ ہے۔