حلب ، 20؍ستمبر (ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )شام میں اطلاعات کے مطابق فوج کی جانب سے ایک ہفتے سے جاری جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے فوراً بعد ہی حلب میں ایک امدادی قافلے پر فضائی حملہ کیا گیا ہے۔مبصرین کے مطابق حملے میں کم سے کم 12افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ امریکہ نے شام میں امدادی قافلے پر حملے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔شامی ریڈ کریسنٹ کا قافلہ اورم الکبریٰ کے علاقے میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے امداد لے کر جا رہا تھا۔امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا شامی حکومت اور روس کو اس قافلے کی منزل کا پہلے سے علم تھا۔پھر بھی شامی لوگوں کو امداد پہنچانے کی کوشش کرنے والے یہ امدادی کارکن مارے گئے۔برطانیہ میں موجود انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ حملہ شامی یا روسی فوج کی جانب سے کیا گیا ہے تاہم دمشق نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔اقوامِ متحدہ میں امدادی ادارے کے سربراہا سٹیفن او برائن کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنگ دل حملہ تھا اور اسے جان بوجھ کر کیا گیا جرم سمجھا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے ترجمان کے مطابق 31میں سے 18گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ قافلہ 78ہزار افراد کے لیے امداد لے کر جا رہا تھا۔عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ریڈ کریسنٹ کے احاطے میں کھڑی گاڑیوں پر پانچ میزائل داغے گئے۔امدادی قافلہ حلب میں باغیوں کے زیرِ قبضہ دیہی علاقوں میں جا رہا تھا۔شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹیفن ڈی مستورہ کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی ظلم ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بھجوائی گئی ایک ای میل میں ان کا کہنا تھا یہ امدادی قافلہ ایک طویل عمل کے نتیجے میں جا رہا تھا، اس کے ذریعے علاقے میں محصور آبادی کو امداد پہنچانے کی اجازت لی گئی تھی اور اس کے لیے تیاریاں کی گئی تھیں۔اطلاعات کے مطابق شامی فوج اور باغی ایک دوسرے پر سات روز قبل شروع ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
امریکہ جس نے روس کے ساتھ مل کر جنگ بندی کا یہ معاہدہ کیا تھا، نے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے میں توسیع کے لیے کام کر رہا تھا مگر اب امریکہ نے روس سے کہا ہے کہ وہ شام کی جانب سے آنے والے بیان کی وضاحت کرے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہمارا انتظام روس کے ساتھ ہے جو کہ شامی حکومت کی فرمانبرداری کا ذمہ دار ہے، ہم روس سے وضاحت کی توقع کرتے ہیں۔امریکہ کا کہنا ہے کہ روس اور امریکہ نے شام کی صورت حال پر منگل کو مزید بات چیت کرنی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نامہ نگار کے مطابق فضائی حملوں اور شیلنگ کے ذریعے سوکاری اور امریریا نامی دو مشرقی اضلاع کو نشانہ بنایا گیا۔حکومت کی حمایت سے کیے جانے والے ان فضائی حملوں میں حمص، ہما اور ادلب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔خیال رہے کہ اس سے قبل شامی فوج نے کہا تھا کہ اس کے سات روزہخاموش حکومت کی مدت پوری ہو گئی ہے۔باغی گروہ جسے شامی فوج نے دہشت گرد کہہ کر پکارا تھا کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کی کسی بھی شق پر عمل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ادھر امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے شام کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان پر تنقید کی اور کہا یہ اچھا ہوتا اگر وہ اس میں پہل نہ کرتے۔روسی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل سرگئی ردسکوئی نے کہا تھا کہ باغیوں کی جانب سے فائر بندی کا احترام نہیں کیا جا رہا، ہم شامی فوج کی جانب سے اس کے یکطرفہ احترام کو بے معنی سمجھتے ہیں۔اس جنگ بندی میں محصور شامیوں تک امداد پہنچانا بھی شامل تھا تاہم پیر تک بہت سی امداد ابھی متاثرہ علاقوں تک پہنچنی باقی تھی۔باغیوں کے زیرِ قبضہ حلب جہاں دو لاکھ 75ہزار افراد پھنسے ہوئے ہیں میں 20امدادی گاڑیوں کو پہنچنا تھا۔ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ حمص کے ایک گاؤں میں کچھ امداد پیر کو پہنچائی گئی تھی۔