ریاض،25؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)رواں سال 12جنوری کو ایران کے سیاحتی شہر مشہد میں بلوائیوں کے ایک بے قابو ھجوم نے سعودی عرب کے قونصل خانے پر دھاوا بول دیا۔ قونصل خانے کو آگ لگادی، توڑپھوڑ کی اور سفارتی عملے کو زدو کوب کیا۔ اس واقعے نے پوری عرب دنیا میں غم وغصے کی ایک لہر دوڑادی۔ سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک نے ایرانی بلوائیوں کی کارروائیوں کے رد عمل میں تہران سے سفارتی تعلقات ختم کرلیے۔ایران اور عرب خلیجی ممالک کیدرمیان سفارتی تعلقات کے خاتمے کو سات ماہ ہوئے ہیں مگر اس عرصے میں ایران کے سیاحتی شہر مشھد کی معیشت بدترین تباہی سے دوچار ہوچکی ہے۔ مشہد میں سعودی قونصل خانے اور تہران میں سفارت خانے پر حملہ ایرانیوں کو بہت مہنگا پڑا ہے۔ ایران کی سیاحت، ہوٹلنگ اور کاروبار بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔مشہد میں ریستوران یونین کے چیئرمین محمد قانعی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ایران اور عرب ممالک کے مابین سفارتی بحران نے تہران بالخصوص مشہد کی معیشت کو تباہی سے دوچار کیا ہے۔ مشہد میں آنے والے سیاحوں کی بڑی تعداد عرب ممالک کے شہریوں پر مشتمل ہوا کرتی تھی مگر جب سے ایران اور عرب ملکوں میں سفارتی تعطل پیدا ہوا ہے مشہد کی معیشت مسلسل روبہ زوال ہے۔قانعی کا کہنا ہے کہ مشہد میں اہل تشیع کے آٹھویں امام علی بن موسیٰ الرضا کا مزار عرب ممالک کے سیاحوں اور شیعہ مذہب کے پیروکاروں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے مگر سفارتی تعطل نے عرب ممالک کے سیاحوں کی ایران آمد معطل کردی ہے۔ایک سوال کے جواب میں محمد قانعی کا کہنا تھا کہ مشہد اور تہران میں سعودی سفارت خانے ور قونصل خانے پر حملے صرف تہران اور ریاض ہی کے درمیان بحران کا موجب نہیں بنے بلکہ عرب ممالک کی ایک بڑی تعداد نے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے تہران سے اپنے سفارتی تعلقات منطقع کرلیے ہیں۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی ایلنا کے مطابق محمد قانعی نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی بحران سے مشہد کی غیرملکی سیاحت میں 80فی صد کمی آئی ہے۔ مشہد میں ہر سال عرب ممالک سے پندرہ لاکھ کے قریب سیاح آتے تھے، ان سیاحوں کی بڑی تعداد بحرین اور سعودی عرب کے باشندوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ چار ستارہ اور پنج ستارہ 10ہوٹل صرف عرب شہریوں ہی سے بھرے رہتے تھے۔ایک سوال کے جواب میں قانعی کا کہنا تھا کہ عرب ملکوں کے ساتھ سفارتی بحران کے نتیجے میں ایرانی سیاحوں کی عرب ملکوں میں آمد ورفت بھی کم ہوکر 20فی صد تک رہ گئی ہے۔خیال رہے کہ ایران اور سعودی عرب کیدرمیان سفارتی کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی تھی جب سعودی عرب میں ایک سرکردہ شیعہ مبلغ نمر النمر کو پھانسی دے دی گئی تو اس پر ایران میں سعودی عرب کے خلاف ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ ایران میں شدت پسندوں نے سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قائم قونصل خانے پریلغار کردی جس کے نتیجے میں قونصلیٹ اور سفارت خانے کو غیرمعمولی نقصان پہنچا تھا۔ اس واقعے کے بعد ریاض نے تہران سے سفارتی تعلقات منطقع کرلیے تھے۔