ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / دہلی کی عدالت نے مسلم پرسنل لاء کوتسلیم کیا، کہا، طلاق کے فوراََ بعد کیا گیا نکاح غیر قانونی

دہلی کی عدالت نے مسلم پرسنل لاء کوتسلیم کیا، کہا، طلاق کے فوراََ بعد کیا گیا نکاح غیر قانونی

Mon, 15 May 2017 22:43:22    S.O. News Service

نئی دہلی15مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ میں تین طلاق پرروزانہ سماعت جاری ہے۔ اس دوران دہلی کے ایک کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ عدت کے دوران کسی مسلمان عورت طرف سے کیا گیا دوسرا نکاح غیر قانونی ہے۔جن ستتاآن لائن کے مطابق گھریلو تشدد کے الزام میں ایک شخص کے اس دعوے کوعدالت نے مسترد کر دیا جس میں اس نے کہا تھا کہ اسلامی قانون کے مطابق اس کی شادی غیرقانونی ہے کیونکہ اس کی بیوی نے اپنے پہلے شوہر سے طلاق لینے کے بعد فوری طور پر نکاح کر لیا تھا اور عدت (ویٹنگ پیریڈ) پورا نہیں کیا۔ بتا دیں کہ اسلامی قانون کے مطابق کوئی بھی طلاق عورت طلاق ہونے کے تقریباََ تین ماہ تک دوسرا نکاح نہیں کرسکتی ہے۔ اس مدت کوعدت کہا جاتا ہے۔کورٹ کے اسپیشل جج بھپیش کمار نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ عدت کے دوران کسی بھی مسلم عورت کی طرف کی گئی شادی باقاعدہ شادی نہیں ہے، وہ غیر قانونی ہے۔کورٹ نے کہاکہ مسلم شخص کو نوٹس جاری کرنے کے کافی ثبوت اور بنیادہیں۔گھریلو تشدد کا ملزم شخص چھتیس گڑھ میں کول انڈیالمیٹڈکاملازم ہے۔ خاتون نے اپنی شکایت عرضی میں دوسرے شوہر سے10 لاکھ روپے معاوضہ اورماہانہ طور پر رہن سہن کاخرچہ اٹھانے کی اپیل عدالت سے لگائی تھی۔ خاتون نے کہا کہ اس نے اپنے دوسرے شوہر سے طلاق کی بات چھپائی تھی لیکن جیسے ہی اس کو پہلی شادی کے بارے میں پتہ چلا اس نے ہم سے فاصلے بنانی شروع کر دیئے اور اخراجات دینا بھی بندکردیا۔خاتون نے کہا کہ اس نے پہلے شوہر کو طلاق لینے کے بعد ہی اس شخص سے نکاح کیاتھا۔ ادھر ملزم شخص درخواست گزار عورت سے شادی ہونے کی بات ہی تردید کی اور کہا کہ وہ عدت (ویٹنگ پیریڈ) میں تھی۔ اس دوران کوئی بھی نکاح غیر قانونی ہے۔ اس نے دلیل دی کہ خاتون نے پہلے شوہر سے 4 اکتوبر 2012 کو طلاق لیا تھا اور اس کے دو دن بعد ہی اس نے دوسرا نکاح کرلیا۔ تاہم عدالت نے مسلم شخص کے دلائل کو مسترد کردیا کہ اس پر خواتین کے خلاف ہونے والے گھریلو تشدد کی روک تھام ایکٹ کے تحت کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی ہے۔
 


Share: