واشنگٹن ،11؍اگست(آئی این ایس انڈیا)امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ شت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام داعش کے خلاف جاری مہم کے دوران گذشتہ دو سال میں کم سے کم 45ہزار داعشی جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ داعش کے خلاف سرگرم مہم کے امریکی انچارج جون مکفرلانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ وقت گذرنے کے ساتھ داعش کے خلاف جاری جنگ میں شدت اور تنظیم کو زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گذشتہ گیارہ ماہ کے دوران شام اور عراق میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حملوں میں کم سے کم 25ہزار داعشی جنگجو ہلاک کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ گیارہ ماہ کے دوران جب داعشی جنگجوؤں کی ہلاکتیں 20ہزار سے متجاوز ہوگئیں تو ہم نے گذشتہ دوسال کے دوران داعش کو پہنچائے گئے جانی نقصان کا حساب لگایا تو پتا چلا کہ داعش اب تک 45ہزار جنگجوؤں سے محروم کی جا چکی ہے۔
جنرل کفرلانڈ کا کہنا ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق داعش کے 15سے 30ہزار کے لگ بھگ جنگجو موجود ہیں مگر تنظیم کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا رکھنا اب مشکل ہوگیا ہے۔پینٹاگون میں ویڈیو کانفرنس سے ذریعے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے داعش کے خلاف جاری مہم کے نگران کا کہنا تھا کہ محاذ جنگ پر موجود داعشی جنگجوؤں کی تعداد کم رہ گئی ہے۔ ہمیں داعش کی صفوں میں وہ چستی اب دکھائی نہیں دیتی جو ماضی میں تھی۔ ہم نے دو سال کے عرصے میں داعش کو بھاری نقصان سے دوچار کیا ہے جس کے نتیجے میں تنظیم کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔
امریکی فوجی افسر کاکہنا تھا کہ داعش نے 25ہزار کلومیٹر کا علاقہ بھی کھو دیا ہے۔ شام اور عراق کے بالترتیب 50اور 20فی صد رقبے پر داعش نے قبضہ کر رکھا تھا مگر اب داعش کی حکومت دن بہ دن سکڑتی جاری رہی ہے۔خیال رہے کہ امریکا کی قیادت میں داعش کے خلاف عالمی جنگ دو سال قبل شروع ہوئی تھی مگر اس داعش مخالف جنگ صرف فضائی حملوں تک محدود ہے۔ البتہ عراق میں سرکاری فوج اور بین الاقوامی اتحاد نے داعش کے خلاف موثر آپریشن شروع کیا جس کے نتیجے میں داعش کو پسپا ہونا پڑا ہے۔