بھٹکل 27/اگست (ایس او نیوز) یہ اس وقت کی بات ہے جب کرناٹکا میں ایس ایم کرشنا وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز تھے۔ انہوں نے بے گھر غریبوں کے چھوٹے چھوٹے مکانات تعمیر کرنے اور نیا گاوں بسانے کا منصوبہ بنایا جسے " نو گرام یوجنا" کا نام دیا گیا۔جس کے تحت خالی پڑی ہوئی ریوینیو جگہ پر 30x40 فٹ کے مکانات تعمیر کرکے غریبوں کواس کا مالک بنانا مقصود تھا۔
بھٹکل تعلقہ میں اس منصوبے پر عمل کا ابتدائی مرحلہ 2001 - 2002 میں شروع ہوا۔ مفت میں زمین اورمکان تعمیر کرکے سرکاری طور پر دئے جانے کی خبر ملتے ہی سینکڑوں لوگوں نے اس میں دلچسپی لی۔ درخواستیں، سفارشات اور جوڑ توڑ جو بھی ممکن تھا اس کو اپناتے ہوئے ان مکانات کو پانے کی خواہش رکھنے والوں کی قطاریں لگ گئیں۔ 2002 - 2003میں بائیلور اور ہاڈولّی میں ان مکانات کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا۔ لیکن اس سے استفادہ کرنے والے نصف سے زیادہ افراد نے صرف جگہ اور گھر کی ملکیت کے کاغذات(پٹّہ) پانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ وہ ان مکانات میں آکر بسنے اور نیا گاوں منصوبے کو آباد کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ اور اس کا سبب یہ بتایا کہ ان علاقوں میں اڑوس پڑوس میں آبادی موجود نہیں ہے۔ ویران اور سنسان علاقہ ہے اس لئے یہاں آباد ہونا ممکن نہیں ہے۔
اس سوچ کا نتیجہ یہ ہوا کہ بینگرے میں موجود 28مکانات کھنڈروں میں تبدیل ہوگئے۔کچھ تو آدھے ادھورے مکانات تھے اور کچھ گھروں کی کھڑکیاں، دروازے اور چھت تک نکال کر لوگ لے گئے اور اب یہاں دیکھو تو ہر طرف کھنڈرات اور ویرانی دکھائی دیتی ہے۔ نیشنل ہائی وے سے صرف 150میٹر کی دوری پر پہاڑی کے قریب بہت ہی خوشنما اور صحت افزا ماحول ہونے کے باوجود لوگوں کی غیر ذمہ دارانہ سوچ نے اس نیا گاؤں منصوبے کو پوری طرح برباد کردیا۔ اب یہ علاقہ عام بیت الخلاء کا میدان بن کر رہ گیا ہے۔ دیواروں کے پتھرتک بھی لوگ اٹھا لے گئے ہیں۔ دوسری طرف اس منصوبے کو ازسر نو زندہ کرنے کے لئے ان برباد شدہ مکانات کو درست کرنے کی گنجائش بھی نہیں ہے کیونکہ اس علاقے میں آثار قدیمہ کا قانون لاگو ہے جس کے تحت تعمیرات پر پابندی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی لوگوں کی طرف سے الزامات، تکرار اور جھگڑے اپنی جگہ برقرار ہیں۔ کائیکینی میں بھی اس منصوبے کا صد فی صد فائدہ نہیں اٹھایا گیا ہے۔ بائیلور میں پچاس فیصد جگہیں خالی اور ویران ہیں۔
آج کے دنوں میں بھٹکل میں زمین کی قیمتیں دن بدن آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ ریوینیو اور محکمہ جنگلات کی زمین قبضہ کرکے گھر بنانے والوں کو قانوناً جگہ خالی کروانے جائے کا خوف ہمیشہ سر پر منڈلا تا رہتا ہے۔ایسے میں سرکاری سہولت سے مناسب انداز میں فائدہ نہ اٹھانے اور عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر بنائے گئے منصوبے کو برباد کرنے کا بنیادی سبب عوام کی بے حسی اور غیرذمہ دارانہ رویے کو ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔