بنگلورو16؍اگست(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور)برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی حدود میں کچھ دنوں پہلے شامل ہونے والے 110 دیہاتوں کو کاویری کا پانی فراہم کرنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر ایک ہفتے میں حکومت کو رپورٹ پیش کرنے کی آج وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اعلیٰ افسران کو ہدایت دی۔ کاویری پانچویں مرحلے کے پراجکٹ کے تحت 775ملین لیٹر پانی بی بی ایم پی کی حدود میں شامل نئے دیہاتوں کو مہیا کرانے کے سلسلے میں ایک ہفتے میں تمام تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ شہر میں پانی کے رساؤ پر روک لگانے اور پانی کی بچت پر خاص توجہ دی جانی چاہئے، تاکہ رساؤ کے ذریعہ جو پانی ضائع ہوتا ہے اس کا کافی حصہ دیہی علاقوں کو مہیا کرایا جاسکے۔ بی بی ایم پی اور بی ڈبلیو ایس ایس بی افسران کے ساتھ میٹنگ میں سدرامیا نے کہاکہ بی بی ایم پی کی حدود میں شامل 110 دیہاتوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے حکومت ہر طرح کی سہولت فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہاکہ شہر کے جنوبی حصہ میں روزانہ 40ملین لیٹر پانی کی بچت یقینی بنائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح شہر کے دیگر علاقوں میں بھی اگر پانی کی بچت ہوجائے تو ماہانہ 1120 ملین لیٹر پانی کی بچت آرام سے ہوسکتی ہے۔ 110 دیہاتوں کو کاویری کے پانی کی فراہمی کے منصوبے پر سدرامیا نے بتایاکہ اس پر 4196کروڑ روپیوں کا خرچ آئے گا ۔ اس پراجکٹ کیلئے تفصیلی رپورٹ تیار کرنی پڑے گی اور ساتھ ہی کابینہ کی منظوری کے بعد اس پراجکٹ پر کام کیاجاسکتاہے۔ سدرامیا نے اس موقع پر افسران کو ہدایت دی کہ پینے کے پانی کی فراہمی کے سبھی منصوبوں کو ترجیحی بنیاد پر مکمل کیا جائے۔ایک ہفتے کے اندر اگر اس منصوبے کی تفصیلی رپورٹ انہیں پیش کی جائے تو مزید ایک دو ہفتوں کے اندر پراجکٹوں کے کام کی شروعات یقینی بنائی جائے گی۔ بنگلور ساؤتھ میں 174 کروڑ روپیوں کی لاگت پر پانی کے رساؤ کو روکنے کا پراجکٹ شروع کئے جانے کا اعلان کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ جلد ہی ان علاقوں میں پائپوں کی تبدیلی سمیت دیگر اہم پراجکٹوں کو پورا کیا جائے گا۔اس سے روزانہ 40ہزار ملین لیٹر پانی کی بچت یقینی بنائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح مغرب میں 308کروڑ روپیوں کی لاگت پر پراجکٹ تیار کیا جائے گا ، جس کیلئے مرکز سے 164کروڑ روپے طلب کرکے مغربی علاقوں میں پانی کے رساؤ پر روک لگائی جائے گی۔