واشنگٹن30؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امریکی وزیر خارجہ نے بنگلہ دیش پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنائے۔ آج ڈھاکا میں انہوں نے کہا کہ واشنگٹن حکومت انسداد دہشت گردی کے لیے ڈھاکا کے ساتھ تعاون مزید بہتر بنائے گی۔خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے آج اپنے اولین سرکاری دورہ بنگلہ دیش کے دوران کہا ہے کہ ایسے شواہد ملے ہیں کہ بنگلہ دیش میں ہونے والے حالیہ سلسلہ وار حملوں میں انتہا پسند گروہ داعش ملوث ہے۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری اپنے اولین سرکاری دورے پر پیر کے دن بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا پہنچ گئے ہیں۔ اس ایک روزہ دورے کے بعد وہ بھارت روانہ ہو جائیں گے۔کیری نے آج ڈھاکا میں بنگلہ دیشی حکام کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ دونوں ممالک انسداددہشت گردی سے متعلق امور میں تعاون مزید بہتر بنائیں گے۔دوسری طرف بنگلہ دیشی ہوم منسٹر اسد الزمان خان نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ کیری کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں انتہا پسندی کے واقعات میں کوئی غیرملکی تنظیم یا جنگجو ملوث نہیں ہے، ہمارے ملک میں جنگجو ہیں، جو اس سرزمین سے ہی انتہا پسندی کی طرف مائل ہوئے ہیں۔اس ایک روزہ دورے کے دوران کیری نے اپوزیشن رہنماؤں کے علاوہ انسانی حقوق کے کارکنوں کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے مزدور اور ٹریڈ یونینیوں کے سرکردہ رہنماؤں سے ملاقاتوں میں بنگلہ دیش کی گارمنٹس انڈسٹری میں بہتری لانے کے حوالے سے بھی مذاکرات کیے۔کیری نے کہا کہ بنگلہ دیشی گارمنٹس فیکٹریوں کی حفاظتی معائنہ کاری کے لیے امریکی حکومت ڈھاکا کو مدد فراہم کرے گی۔بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اور وزیر خارجہ محمود علی سے ملاقات کے بعد جان کیری نے کہا کہ واشنگٹن اور ڈھاکا خفیہ معلومات کے تبادلے کے حوالے سے تعاون مزید بہتر بنائیں گے۔ انہوں نے اس دوران یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیش میں انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے جمہوری اقدار کو فروغ انتہائی ضرروی ہے۔کیری بنگلہ دیش کا دورہ مکمل کرتے ہوئے بھارت روانہ ہو جائیں گے، جہاں وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ مذاکرات کے علاوہ امریکی بھارتی اسٹریٹیجک اینڈ کمرشل ڈائیلاگ میں شریک ہوں گے۔