پیرس19مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اورلی ایئرپورٹ پرہلاک کر دیے جانے والافرانسیسی شہری ’اللہ کی راہ میں مرنے‘ کو تیار تھا جبکہ اس نے دوسروں کوہلاک کرنے کا عہدبھی کررکھاتھا۔ بلقاسم میں ’اسلامی بنیاد پرستی‘ کے رحجانات بھی دیکھے گئے تھے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فرانسیسی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیرس کے اورلی ایئر پورٹ پر ہلاک کر دیے جانا والا مشتبہ حملہ آور زیاد بن بلقاسم خفیہ اداروں کی واچ لسٹ پر تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد بتایا گیا ہے کہ بلقاسم مجرمانہ ریکارڈ رکھتا تھا جبکہ اس میں ’اسلامی بنیاد پرستی‘ کی رحجانات بھی نوٹ کیے گئے تھے۔پیرس کے پراسیکیوٹر فرانسوا مولن نے بلقاسم کو ’انتہائی پرتشدد فرد‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں دہشت گردی کے میلانات بھی پنپ رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلقاسم کے ہمسایوں نے اسے ’خوفناک شکل‘ والا ایک ’شیطان‘ قرار دیا ہے۔ انتالیس سالہ بلقاسم پیرس میں پیداہواتھا۔سن 2001 میں ایک مسلح ڈاکے کے جرم میں بلقاسم کو پانچ برس کی سزائے قید بھی سنائی گئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ اس کے علاوہ وہ دیگر جرائم میں بھی ملوث پایا گیا تھا۔ سن 2009 میں اس پر منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات بھی ثابت ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق جیل میں سزا کاٹنے کے دوران اس میں بنیاد پرستی پیداہوئی تھی۔اٹھارہ مارچ بروز ہفتہ بلقاسم نے پیرس کے دوسرے سب سے بڑے ایئر پورٹ پرسکیورٹی پر تعینات ایک خاتون فوجی سے گن چھیننے کی کوشش کی تھی، جس پر دیگر فوجیوں نے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔فرانسیسی پولیس نے بلقاسم کے گھر کی تلاشی لی ہے تاہم اس کے گھر سے ایسے کوئی مواد نہیں ملا، جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ وہ اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ رابطے میں تھا یا ان سے ہمدردی رکھتا تھا۔ تاہم اس دوران اس کے گھر سے کوکین برآمد ہوئی تھی۔ فرانسیسی پولیس نے اس کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں بلقاسم کے بھائی اور والد کو بھی گرفتار کیا تھا۔جرمن شہر لائپزگ کی پولیس نے بائیس سالہ شامی مہاجر جابر البکر کو دو دن کی تلاش کے بعد گرفتار کر لیا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ برلن کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ اس مشتبہ جہادی کے گھر سے دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔ تاہم گرفتاری کے دو دن بعد ہی اس نے دوران حراست خودکشی کر لی تھی۔فرانس میں یہ تازہ واقعہ ایک ایسے وقت میں رونما ہوا ہے جب پیرس حملوں کے بعدسن2015 سے فرانس میں ہنگامی حالت نفاذ ہے، اس لیے اہم اور حساس مقامات پر سکیورٹی کی غرض سے فوج کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ فرانس بھر میں ساڑھے سات ہزار فوجی تعینات ہیں، جن میں سے نصف پیرس کے مختلف مقامات پرسکیورٹی کو یقینی بنانے کی کوششوں میں ہیں۔گزشتہ ماہ ہی پیرس میں مشہور زمانہ میوزیم لْوور کے نزدیک ایک فوجی نے ایک مشتبہ حملہ آور پر فائرنگ کر دی تھی، جس کے باعث وہ شدید زخمی ہو گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد حکام نے اس میوزیم کو بند کر کے پیرس بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی تھی۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران فرانس میں متعددہلاکت خیزدہشت گردانہ حملے کیے جا چکے ہیں،جن میں نیس اور پیرس کے بڑے حملے بھی شامل ہیں۔