تہران،12؍اگست(ایس اونیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ایران میں سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ حکومت پہلی مرتبہ مقامی کمپنیوں کو ’’آئی فون‘‘درآمد کرنے کی اجازت دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد امریکی کمپنی ’’ایپل‘‘کی مصنوعات کی اسمگلنگ پر روک لگانا ہے۔ایرانی وزارت تجارت نے آئیفون کی درآمد کے سلسلے میں ایرانی کمپنیوں کیلئے 9اجازت نامے جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔دارالحکومت تہران میں پہلے ہی ’’ایپل‘‘کی مصنوعات کے لیے کئی غیر قانونی دکانیں موجود ہیں جہاں سے ایرانی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس ماڈل کے فون کے جدید ترین ورژن خریدتی ہے۔ایرانی حکومت طویل عرصے سے مغربی مصنوعات اور فون سیٹس کی اسمگلنگ سے چشم پوشی کر رہی تھی۔ تاہم حکام نے دو ماہ سے اسمگلنگ کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں آئیفون کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔
ایران نے پہلی مرتبہ موبائل فونز کو انسداد اسمگلنگ کا حصہ بنایا ہے۔ آئندہ ہفتوں میں نئے نظام کے نفاذ کے بعد صرف قانونی طور پر درآمد شدہ موبائل ہی کام کر سکیں گے۔اجازت نامے جاری ہونے کی صورت میں بھی یہ امر جاننا رہ جائے گا کہ آیا ایرانی کمپنیاں آئیفون کی خریداری میں کامیاب ہو سکیں گی یا نہیں اس لیے کہ ایران پر عائد امریکی پابندیاں اس کو بین الاقوامی بینکاری نظام کے ساتھ لین دین کی اجازت نہیں دیتیں۔