ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملہ ؛ مالیگاؤں کے جاوید اور مشتاق کی سزاؤں کے خلاف اپیل داخل ممبئی ہائی کورٹ میں جلد سماعت ہونے کی توقع

اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملہ ؛ مالیگاؤں کے جاوید اور مشتاق کی سزاؤں کے خلاف اپیل داخل ممبئی ہائی کورٹ میں جلد سماعت ہونے کی توقع

Wed, 17 Aug 2016 17:55:13    S.O. News Service

ممبئی ۱۷؍ اگست (ایس او نیوز؍پریس ریلیز) مہاراشٹر میں ہوئے ایک دہشت گردانہ واقعہ بنام اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے میں گنجان مسلم آبادی والے شہر مالیگاؤں سے تعلق رکھنے والے دو مسلم نوجوانوں کو خصوصی مکوکا عدالت کی جانب سے دی گی آٹھ برسوں کی سزاؤں کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) نے ممبئی ہائی کورٹ میں دونوں نوجوانوں کو ملی سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کی ہے اور عرضداشت میں مطالبہ کیا ہیکہ اپیل کی مکمل سماعت ہونے تک انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے ۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اخبار نویسوں کو دی ۔

گلزاراعظمی نے مزیدبتایا کہ دفاعی وکلاء ایڈوکیٹ شریف شیخ اور ایڈوکیٹ انصار تنبولی نے ملزمین جاوید احمد عبدالمجید اور مشتاق احمد محمد اسحاق کی ضمانت پر رہائی اور سزاؤں کے خلاف اپیل کی مشترکہ عرضداشت کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 428 کے تحت ممبئی ہائی کورٹ میں داخل کی ہے جس میں بتایا گیا ہیکہ ایک جانب جہاں خصوصی مکوکا عدالت نے ملزمین کو مکوکاقانون اور یو اے پی اے قانون و مجرمانہ سازش کے الزامات سے بری کیا ہے وہیں آرمس ایکٹ کی دفعہ 6 کے تحت انہیں آٹھ سال قید بامشقت کی سزا دی ہے حالانکہ آرمس ایکٹ کی دفعہ 6میں سزا کتنی دی جانی چاہئے اس کا ذکر ہی نہیں ہے لہذا نچلی عدالت کے جج نے فیصلہ صادر کرتے وقت غلطی کی ہے ۔

عرضداشت میں مزید درج ہیکہ ملزمین کے قبضہ سے مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس ) نے کوئی بھی دھماکہ خیر مادہ یا ہتھیار ضبط نہیں کیا تھا اور ملزمین کے خلاف گواہی دینے والے سرکاری گواہان عدالت میں ان کے سابقہ بیانات سے منحرف ہوگئے تھے اس کے باوجود خصوصی جج نے سزائیں دی ہیں جو قانوناً غلط ہے ۔

ممبئی ہائی کورٹ میں داخل کی گئی عرضداشت کے تعلق سے دفاعی وکلاء کی ٹیم میں شامل ایڈوکیٹ انصار تنبولی نے کہا کہ دونوں ملزمین کو دیگر ملزمین کے اقبالیہ بیانات کی روشنی میں خصوصی مکوکا عدالت کے جج شریکانت انیکر نے آٹھ سال کی سزا سنائی ہے جبکہ جج نے دوسری جانب اقبالیہ بیان دینے والے دیگر ملزمین کے اقبالیہ بیانات کو خارج کردیا ہے لہذا قانون کے مطابق خارج کیئے گئے اقبالیہ بیان کی روشنی میں ملزمین کو سزائیں نہیں دی جاسکتی ہے۔ ایڈوکیٹ تنبولینے مزید کہا کہ دفاع نے عرضداشت کے ذریعہ ممبئی ہائی کورٹ میں یہ مدعا اٹھایا ہیکہ قانون کے مطابق نصف سے زائد سزائیں جیل میں گذارنے والے مجرمین کو اپیل کی مکمل سماعت تک ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے لہذا جاوید اور مشتاق کو اپیل کی سماعت مکمل ہونے تک ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے ۔

اس تعلق سے گلزار اعظمی نے کہا کہ دفاعی وکلا ء کو امید ہیکہ آئندہ چند ایام میں ضمانت کی عرضداشت اور سزاؤں کے خلاف داخل کی گئی عرضداشت ممبئی ہائی کورٹ میں سماعت کے لیئے پیش ہو گی اور انہیں امید ہیکہ عرضداشت سماعت کے لیئے قبول ہوجائے گی اورمسلم نوجوانوں کو ہائی کورٹ سے راحت حاصل ہوگی۔

دفاعی وکلاء کی ٹیم میں شامل ایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری نے بتایا کہ ۲۸؍ ستمبر کو آرتھرروڈ جیل میں قائم خصوصی مکوکا عدالت نے اس معاملے کا سامنا کررہے ۲۰؍ مسلم نوجوانوں میں سے ۸؍ مسلم نوجوانوں کو باعزت بری کردیا تھا جبکہ ۳؍ نوجوانوں کو آٹھ سال ، ۲؍ نوجوانو ں کو ۱۴؍ سال قید بامشقت کی سزا اور دیگر ۷؍ نوجوانوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔۸؍ آٹھ سال کی سزاء پانے والے تین مسلم نوجوانوں افضل خان نبی خان، جاوید احمد عبدالمجید اور مشتاق احمد محمد اسحاق ہیں جن میں افضل خان نے مقدمہ کا فیصلہ ہونے تک ۹؍ سال جیل کی صعوبتیں برداشت کرچکا تھا جبکہ جاوید اور مشتاق کو ساڑھے سات سال بعد ضمانت پر رہائی نصیب ہوئی تھی لہذا عدالت کے فیصلہ کے مطابق دونوں کو بقیہ چند ماہ کی سزا بھگتنے کے لیئے جیل میں دوبارہ جانا پڑا تھااو ر فی الحال دونوں مہاراشٹر کی مختلف جیلوں میں بقیہ سزائیں کاٹ رہے ہیں لیکن ممبئی ہائی کورٹ میں جمعیۃ علماء کی جانب سے داخل کی گئی عرضداشت سے انہیں راحت ملنے کی امید ہے ایڈوکیٹ شاہد نے مزید کہا


Share: