واشنگٹن ،23دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)اوباما انتظامیہ نے بتایا کہ وہ 11ستمبر کے تناظر میں سامنے آنے والی قانونی ضرورت کو بدل رہی ہے جس کے تحت اکثر مسلمان ملکوں سے آنے والے تارکین وطن کے لیے لازم کیا گیا کہ وہ وفاقی حکومت میں اپنا نام درج کروائیں۔سن 2011سے امریکہ میں اس پروگرام پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تھا۔ لیکن، منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مشیر برائے تارکین وطن نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پروگرام کو پھر سے لاگو کیا جائے گا۔نیشنل سکیورٹی انٹری ایگزٹ رجسٹریشن سسٹم (این ایس اِی اِی آر ایس)کے خاتمے کا فیصلہ ایسے میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی دہشت گردی کا خوف بڑھ رہا ہے اور ٹرمپ کی تجویز پھر سے سامنے آئی ہے کہ امریکہ میں مسلمان تارکین وطن کی آمد پر بندش لگائی جا سکتی ہے۔ اس ہفتے برلن میں کرسمس مارکیٹ پر ٹرک حملے کے بعد، جس میں 12افراد ہلاک ہوئے، ٹرمپ نے اخباری نمائندوں کو بتایا ہے کہ آپ کو میرے منصوبوں کا پتا ہے۔
رجسٹریشن سسٹم کا 11ستمبر کے دہشت گرد حملوں کے تقریباً ایک برس بعد آغاز کیا گیا تھا، جس میں امریکہ آمد پر لوگوں اور لڑکوں کو اپنا نام وفاقی حکومت میں درج کرانا تھا، جن میں زیادہ تر مشرق وسطیٰ کے ملک شامل تھے۔ امریکہ میں موجود ان ملکوں کے شہریوں کو بھی امی گریشن حکام کے پاس نام کا اندراج کرانا پڑتا تھا۔ایسا رجسٹریشن شمالی کوریا سے آنیوالے تارکین وطن پر بھی لاگو ہوتی تھی، جن کے فنگر پرنٹ اور تصاویر لی جاتی تھیں۔ ایڈریس تبدیل کرنے کی صورت میں ایسے افراد کے لیے لازم تھا کہ وہ حکومت کو باضابطہ اطلاع دیں۔