بنگلورو۔12/اگست(ایس او نیوز) کسی بھی لیجسلیچر اجلاس کے مرحلے میں کارروائیوں میں حصہ لینے کے تئیں لاپرواہ یا محض ہنگامہ آرائی کرکے اجلاس کو ضائع کرنے والے منتخب نمائندوں کو حکومت کی طرف سے جو ماہانہ تنخواہ دی جارہی ہے وہ ناکافی لگ رہی ہے۔ ریاست کرناٹک ملک کی چوتھی ریاست ہے جو سب سے زیادہ تنخواہ اراکین اسمبلی اور کونسل کو دے رہی ہے۔ پھر بھی اراکین اسمبلی کی شکایت ہے کہ انہیں جو تنخواہ دی جارہی ہے وہ ناکافی ہے۔ اس سلسلے میں ان اراکین اسمبلی نے اسپیکر کے بی کولیواڈ کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے، جس کی نقل وزیر اعلیٰ سدرامیا کو بھی بھیجی گئی ہے۔ارسیکیرے کے کے ایم شیولنگے گوڈا، موڈگیرے کے بی بی ننگیا، سکلیشپور کے ایچ کے کمار سوامی نے یہ مکتوب روانہ کیا ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ ہونا چاہئے۔ ریاستی وزراء اور اراکین اسمبلی کی تنخواہوں کے ضابطہ برائے 2015کے مطابق وزیر اعلیٰ، اسپیکر، کونسل چیرمین، کابینی وزراء، مملکتی وزراء اور اراکین اسمبلی وکونسل کی تنخواہوں میں دوگنا اضافہ کیاگیاتھا۔اس اضافہ کے مطابق وزیر اعلیٰ کو ماہانہ 50 ہزار روپے، کابینی وزراء کو 40ہزار روپے، مملکتی وزراء کو 30ہزار روپے اور اراکین اسمبلی اور کونسل کو 25ہزار روپے دئے جاتے ہیں، اس کے ساتھ ہی حلقہ الاونس، سفر الاونس، ہوٹل الاونس اور ٹیلی فون الاونس سمیت ہر رکن اسمبلی کو ماہانہ 1.10لاکھ روپے ادا کئے جاتے ہیں۔ اراکین اسمبلی کو سب سے زیادہ تنخواہ تلنگانہ میں ملتی ہے، وہاں فی رکن اسمبلی 2.2 لاکھ روپے دئے جاتے ہیں، دہلی میں 2.1لاکھ روپے اور آندھرا میں 1.25لاکھ روپے دئے جاتے ہیں، کرناٹک چوتھے مقام پر ہے، ہریانہ، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں اراکین اسمبلی کو ایک لاکھ روپے ماہانہ دئے جاتے ہیں ۔ اترپردیش، بہار اور جھاڑکھنڈمیں 90ہزار روپے۔ ریاست کے اراکین اسمبلی کو ماہانہ25ہزار روپے تنخواہ کے علاوہ پی اے کی تنخواہ کیلئے دس ہزار روپے، ٹیلی فون اخراجات کیلئے 20ہزار روپے، حلقہ الاؤنس چالیس ہزار روپے،پوسٹل الاونس پانچ ہزار روپے دئے جاتے ہیں۔