ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نئے سماج کی تعمیرہم سب کی ذمہ داری؛ ہاسن میں منعقدہ جماعت اسلامی ہند کے سمپوزیم میں مولانا ولی اللہ سعیدی کاخطاب

نئے سماج کی تعمیرہم سب کی ذمہ داری؛ ہاسن میں منعقدہ جماعت اسلامی ہند کے سمپوزیم میں مولانا ولی اللہ سعیدی کاخطاب

Tue, 30 Aug 2016 11:30:13    S.O. News Service

ہاسن :29 ؍اگست(ایس او نیوز) جماعت اسلامی ہند کی جانب سے چلائی جانے والی کُل ہند"امن و انسانیت مہم " کے تحت ایک سمپوزیم بعنوان "تکریم انسانیت امن کا ضامن" بروز اتوار مورخہ28 اگست کی صبح 10:30بجے بمقام اسلامک سنٹرہاسن منعقد کیا گیا۔اس سمپوزیم میں مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی،سکریٹری ،جماعت اسلامی ہند نئی دہلی،جناب اطہر اللہ شریف صاحب امیر حلقہ کرناٹک کے علاوہ شری شری شری سوم شیکھر سوامی جی ،پشپا گری مٹھ ہلے بیڈ،شری وینو گوپال ،پرنسپال گوتم پی یو کالج سکلیشپور،شری ہریش سی کے،کارگزار صدر کے جی وی یس ہاسن، ہچ کے سندیش ڈی یس یس ہاسن اور شوکت علی ممبر سالڈارٹی یوتھ مومنٹ منگلور نے شرکت کی۔سمپوزیم کا آغاز مولانامحمد ریاض ،مہتمم دارالعلوم امدادیہ کی تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا۔ صدر اللہ خان نے مہمانوں کا استقبال فرمایا۔ اطہر اللہ شریف نے افتتاحی خطاب کیا۔انہوں نے ہمارے عزیز ملک ہندوستان کی روایات ،رواداری،آپسی محبت اور ایک دوسرے کے لئے ایثار قربانی کی تاریخ کو پیش کیا۔انہوں نے بتایا کہ اب ملک کے کیا حالات ہیں اور ملک کس جانب چلا جارہا ہے ۔ملک کے اندر بڑھتی ہوئی انارکی،ظلم و تشدد،نفرت و عدمِ رواداری کو انتہائی خطرناک قرار دیااور بتایا کہ اس کے بھیانک انجام سے ملک کے تمام باشندے دوچار ہونگے۔انہوں نے ملک کے تمام سلگتے مسائل کا ذکر کیا اور بتایا کہ ان اصل مسائل سے ذیلی چیزوں کی جانب عوام کی توجہ پھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شری سوم شیکھر سوامی جی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ آج انسان مقام انسانیت سے گر چکا ہے۔ذاتی مفادات کی خاطر،اقتداراور دولت کی خاطر انسان انسان کا دشمن بن جاتا ہے۔جانوروں کے اندر جو رواداری ہے،غم گساری ہے وہ آج انسان کی زندگی سے مفقود نظر آتی ہے۔سماج کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ماں باپ کی خدمت،رشتہ داروں کے حقوق اور ایک دوسرے کا پاس و لحاظ اور عوام الناس سے محبت ہمار ے ماضی کا ایک حصہ بن چکا ہے اور اس کی جگہ نفرت ،عداوت اور دشمنی نے لے لی ہے۔سوامی جی نے آواز دی کہ انسان کو انسان بن کر زندگی گزارنا ہے نفرت کی آگ کو بجھانا ہے اور پورے سماج و معاشرے میں امن و انسانیت کے پیغام کو عام کرنا ہے۔ایچ کے سندیش نے بتایا کہ ہمارا ملک آج بھی ذات پات کی مہلک بیماری میں مبتلا ہے۔اونچ نیچ کی بیماری ہمارے ملک کے ماتھے پر ایک کلنک ہے۔ہمارے ملک ہندوستان میں اُس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا اور ہمارا ملک اُس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ ذات پات کی بیماری کا کینسر سماج سے ختم نہیں ہوتا۔اُنہوں نے دلت طبقہ پر،اقلیت اور کمزور طبقات پر ہونے والے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک مخصوص ذہن و فکر رکھنے والا طبقہ ملک کو فسطائیت کی جانب لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔آج بھی اس ملک کے باشندوں کے اندر ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے کی قوت باقی ہے۔ملک کے اندر امن قائم رکھنا،اونچ نیچ کے بھید بھاؤ کو ختم کرنا اور انسانی اقدار کورائج کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔شری وینو گوپال نے اپنی تقریر میں بتایا کہ آج انسان ہے لیکن انسانیت نہیں ہے۔ انسانیت کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔آج ہم نے ذات پات کی بنیاد پر نفرت کی دیواریں آپس میں کھڑی کر لی ہیں،ان دیواروں کو ختم کرنا ہے۔اور سماج کے اندر انسانیت کی روح کو زندہ کرنا ہے۔اس ملک کے اندر تمام شہری کے یکساں حقوق ہیں لیکن آج فرقہ پرست لوگ سماج کو بانٹنے کی کو شش کر رہے ہیں اس سے ملک کو بچانے کی ضرورت ہے۔ شوکت علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج انسان خود غرض ہے۔ذاتی مفاد انسان پر غالب ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان کے سینے سے رحم کا جذبہ ختم ہو گیا ہے۔ایک شخص اپنی مردہ بیوی کی لاش کو اپنے کندھے پر لاد کرچلا جارہا ہے،کوئی اُس کا پرسانِ حال نہیں،اُس کے لئے سواری کا انتظام نہیں ہوتا،لوگ دیکھ کر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔غربت کی یہ چادر انسان کو بے بس کردیتی ہے اور کوئی نہیں ہے جو انسان ہونے کی بنیاد پر اُس سے پوچھے اور اس کی مدد کرے۔سی کے ہریش نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ جس مذہب نے انسان کو انسانیت کا درس دیا آج اُس کو بدنام کرنے،دہشت گر دثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ حضرت محمدؐ امن و شانتی کے علمبردار تھے اوراُنہوں نے انسان کی قدر کرنا سکھایاسماج میں امن و شانتی کو پھیلایا اور پورے سماج کو بدل کر رکھ دیا۔حضرت عمرؓ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ کس طرح اُنہوں نے عدل و انصاف کو قائم کیا۔زندگی کے ہر شعبہ کے اندر ایمان داری۔عہد کی پابندی اور عدل و انصاف کا قیام ہی امن و سلامتی کا ضامن ہو سکتا ہے۔مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ آج یہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ جس ملک نے ساری دنیا کو امن و شانتی کا پیغام دیا آج اُسی ملک کے اندر ظلم و تشدد برپا ہے۔ایسا محسوس ہو تا ہے کہ اس ملک کے اندر حیوانوں کی جان کی قیمت ہے لیکن انسان کی جان کی قدر وقیمت باقی نہیں رہی۔فسطائی قوت اس ملک کو ڈکٹیٹر شپ کی جانب لے جارہی ہے۔اس ملک کا ایک طبقہ اپنے خیالات،اپنی فکر اور اپنے نظریہء زندگی کو دوسروں پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔وہ جو کہتا ہے وہی آپ کو کہنا ہو گا ،جو وہ چاہتا ہے وہی کھانا ہو گا،آپ کی زندگی کے ہر معاملے میں وہ بتائے گا کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔انسانی حقوق پر یہ تسلط،انسانی حقوق کی پامالی اور ہر بات میں عدم رواداری بڑھتی چلی جارہی ہے۔ایک مخصوص کلچر اور عقائد کو تمام پر ٹھونسنے کی کوشش کی جارہی ہے۔شر وفساد پھیلانے والے لوگوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔قانون کے محافظ خاموش تماشائی بنے ہر ظلم و ستم کو دیکھ رہے ہیں۔بر سر عام لوگوں کو مارا جاتا ہے،اُن پر ظلم کیا جاتا ہے۔ گھروں میں گھس کر اُنہیں مارا جاتا ہے،پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔اہل اقتدار خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں،زبان سے اس ظلم کے خلاف کوئی آواز نہیں اُٹھتی۔ملک کی یہ سنگین صورت حال کو بدلنا ہے،بد امنی و انتشار کو ختم کرنا ہے،انسان کے اندر انسانیت کو زندہ کرنا ہے،بھائی چارہ،خلوص ومحبت،امن و سلامتی کا ماحول اس ملک کے اندر پیدا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی اقدار،انسانی مساوات، انسانی بھائی چارگی اور محبت کی بنیاد پر نئے سماج اور نئے معاشرے کی تعمیر کرنا ہے۔یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے،ہم سب کا فرض ہے اور اس کو ادا کرتے ہوئے اپنے وقت کی اپنے مال کی اپنی صلاحیتوں کی قربانی دینی ضروری ہے۔ امجد خان کے شکریہ کے ساتھ سمپوزیم اختتام پذیر ہوا۔


Share: